11 اگست، 2017

ہنسننا منع نہیں ہے: لطیفے پڑھئے : لطیفوں کا سیٹ نمبر 2

ایک فقیر آدمی سے: خدا کے لیے مجھے کھانے 
کے لئے کچھ دیں دو ۔
آدمی: تم صحت مند ّہو دیکھنے میں بھی اچھے 
ہو جاو ّعزت سے کوئی کام کرو
فقیر: میں نے کھانے کے لئے کچھ مانگا ہے 
مشورہ نہیں مانگا

_____________________

ٹیچر سٹوڈنٹ سے: اے بی سی سناؤ
سٹوڈنٹ: اے بی سی
ٹیچر: اور سناؤ
سٹوڈنٹ: اور اللہ کا شکر ہے آپ سنائیں 🅨☺

________________

ایک بزرگ ایک محفل میں گئے تو وہاں موجود سارے 
لوگ اُن کو دیکھ کے ہنسے لگے 
تو بزرگ نے کہا ۔دیکھو ہم فقیر لوگ ہیں ہمارا 
مزاق نہ اُڑاو 
وہ اور زیادہ ہنسنے لگے
اور اچانک ان لوگوں کو نظر آنا بند ہو گیا
ایسے جیسے وہ سب اندھے ہو گئے ہوں
اب تو سب اُن کے قدموں میں گر گئے اور کہا 
بابا جی ہمیں معاف کر دیں 
بزرگ نے جوتا اتارا اور سب کو مارنا شروع
 کر دیا
( جنگلیوں اٹھو لائٹ چلی گئی نے)

_____________________


ایک آدمی تلوار لئے مسجد میں گیااور آواز لگائی
 آپ میں کوئی سچا مسلمان ہے
ایک بزرگ بولے میں ہوں۔
آدمی ان کو باہر لے گیا اور انکے قدموں میں
 بکرا ذبح کیا۔
پھر مسجد میں گیا تلوار سے خون ٹپک رہا تھا؛ 
لوگ گھبرا گئے وہ بولا
اور کوئی سچا مسلمان ہے؟
کسی نے آواز لگائی مولوی صاحب ہیں
مولوی گھبرا کر بولا بکواس کر رہا ہے یہ الو
میں تو اعلان کروانے آیا تھا کہ پرسوں
 سے کیبل نہیں آرہی

------------------------




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget