22 اگست، 2017

آرٹیکل 62 اور 63 ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو بھر پور مزاحمت کریں گے: سراج الحق، عید کے بعد احتساب مارچ کا اعلان

 


اسلام آباد (ٹائمز آف چترال: ویب ڈیسک)  امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر آئین کے آرٹیکل 62-63 کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کرپشن ، کرپٹ نظام اور چوری کے مال کو تحفظ دینے کیلئے نہیں ہونے چاہئیں، قوم کو لوٹنے کیلئے 40 چوروں نے اتحاد کرلیا ہے اب علی بابا کو جاگنا پڑے گا۔ 

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے عید کے بعد 12 ستمبر کو لاہور سے اسلام آباد احتساب مارچ کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہون نے کارکنوں کو تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ احتساب مارچ کے لئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ احستان کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگر عدالتین عام اور غریب آدمی کے لئے مضبوط اور امیر اور طاقتور کے لئے ہاتھ جوڑ کر اپیلیں کریں گی تو ملک میں امن نہیں ہوگا۔

انہوں نے  ڈان لیکس ، والیوم 10 اور ماڈل ٹاﺅن میں 14 لوگوں کے قتل کی کمشن کی رپورٹ کو بھی منظر عام پر لانے کا مطالبہ کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیشن فارٹروتھ بنایا جائے تاکہ تمام کمشنوں کی رپورٹ جومنظر عام پر نہیں آئیں ان کو منظر عام پر لایا جائے۔ 

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے نائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کرپشن کی انتہا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ادارے مفلوج ہوگئے ہیں اورمنصوبوں کا آغاز تو ہوجاتا ہے لیکن  ہر چھوٹا بڑا منصوبا تاخیر کا شکار ہورہا ہے، یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے مارچ 2016ء کو کرپشن فری پاکستان مہم شروع کی تھی۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بین الاقوامی ادارے پہلے ہمیں صرف قرض دیتے تھے مگر وہ قرض کے ساتھ اپنے نمائندے بھی پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ کرپشن کو بھی روکا جاسکے‘ 
کرپشن ملک کیلئے کینسر ہے۔ 

جماعت اسلامی سب کا احتساب چاہتی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62-63 سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹ پر بھی لاگو کیا جائے۔ میرا مطالبہ ہے کہ نیب کا چیئرمین چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور چاروں ہائیکورٹس کے جج بنائیں۔ 

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین سے متعلق چینلوں اور چوک چوراہوں پر بیان بازی کرنا ہمارے کلچر کیخلاف ہے اسلئے میں نے کارکنوں کو اس حوالے سے منع کیا ہے کہ وہ خواتین کے حوالے سے بات نہ کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget