3 اگست، 2017

پاکستان کو جب جب ڈکٹیرز ٹھیک کرکے پٹڑی پر چڑھاگئے، بعد میں آنے والے سیولین نے بیڑا غرق کردیا: پرویز مشرف کاتازہ انٹرویو

 

پاکستان کو جب جب ڈکٹیرز ٹھیک کرکے پٹڑی پر چڑھاگئے، بعد میں آنے والے سیولین نے بیڑا غرق کردیا: پرویز مشرف کاتازہ انٹرویو

دبئی (ویب ڈیسک)  سابق صدر پرویز مشرف نے کہا  ہے کہ پاکستان میں فوج ملک کو پٹری پر لاتی ہے اور جب وہ  سویلین کے حوالے کرکے چلے جاتے ہیں تو  سویلین آ کر پھر اسے پٹری سے اتار دیتے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی فوج نے مارشل لا ء لگایا ہے  حالات کے تناظر میں لگایا، کیونکہ سویلین حالات کو اس نہج پر لے جاتے ہیں کہ فوج کو مجبوراً مارشل لاء لگانا پڑتا ہے۔


برطانیہ کے ایک  نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاک فوج کے سابق سربراہ اورسابق صدرپاکستان جنرل ریٹائرڈ  پرویزمشرف نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی مارشل لاء لگائے گئے یہ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا، پاکستان میں فوج ملک کو پٹری پرلاتی ہے اورسویلین آ کرپھراسے پٹری سے اتاردیتے ہیں، ایشیا کے تمام ممالک کو  دیکھا جائے تو وہاں بھی صرف ڈکٹیٹروں کی وجہ سے ترقی ہوئی ہے جب کہ پاکستان کو بھی ڈکٹیٹروں نے ٹھیک کیا لیکن جب وہ گئے تو سیاسی حکومتوں نے بیڑہ غرق کر دیا، فوجی ڈکٹیٹرشپ میں ملک نے ہمیشہ ترقی کی ہے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز  مشرف نے کہا کہ حکومت کو ہٹانے کا اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔ عوام تب ہوتی ہے جب آئین کے اندر چیکس اینڈ بیلنسز ہوں، عوام خود بھاگ کر فوج کے پاس آتی ہے کہ ہماری جان چھڑوائیں جب کہ لوگ میرے پاس آکر کہتے تھے کہ ہماری جان چھڑوائیں اور میں نے عوام کے مطالبے پر ٹیک اوور کیا تھا۔ آئین کے حوالے سے مشرف نے کہا کہ آئین مقدس ہے لیکن آئین سے زیادہ قوم مقدس ہے، ہم آئین کو بچاتے ہوئے قوم کو ختم نہیں کرسکتے اس لئے مشکل وقت میں قوم کو بچانے کے لئے آئین کو تھوڑا نظرانداز کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے  اپنے خلاف درج آرٹیکل 6  کے مقدمے کو غلط قرار دے دیا اور کہا کہ  اگر ملک ہاتھ سے نکل رہا ہو تو میں آئین اور آرٹیکل 6 کا سوچوں  گا یا پھر ملک بچاؤں گا۔ اگر یہ غلط ہے تو مجحے بے شک لٹکا دیا جائے۔ مشرف کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں عوام کوجمہوریت ، ڈکٹیٹرشپ ، کمیونزم ، سوشلزم یا بادشاہت سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ، انہیں صرف ترقی اور خوشحالی، روزگاراور سکیورٹی چاہیے ہوتی ہے جب کہ الیکشن کراکر عوام کو اگر خوشحالی نہ دی جائے تو اس الیکشن کا کیا فائدہ ۔


پرویز شرف نے کہا کہ افغان جنگ میں فوج نے پیسے نہیں بنائے لیکن کچھ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو ہتھیار خرید رہے ہوں، افغانستان میں پیسے تقسیم کررہے ہوں ان میں سے کچھ ملوث ہوسکتے ہیں جنہوں نے پیسے بنائے ہوں تاہم فوج نے بطورادارہ کوئی پیسے نہیں بنائے۔  جنرل پرویزمشرف نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر الزام لگایا کہ ان کی بھارت پالیسی ٹوٹل سیل آؤٹ پالیسی تھی، بھارت بلوچستان میں ملوث ہے اورجو کوئی پاکستان کو نہیں مانے گا اورملک کی بقا کے خلاف ہوگا اس کو مارنا چاہیے جب کہ ملک سے نکلنے میں مدد کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کے سربراہ رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ فوج ہمیشہ ان کی ویلفیئرکی طرف دیکھتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget