11 اگست، 2017

چترال: کیا زرعی قرضوں کی معافی ناگزیر ہے؟ ۔ کریم اللہ

چترال: کیا زرعی قرضوں کی معافی ناگزیر ہے؟

کریم اللہ 

پانچ اگست سن دوہزار سترہ عیسوی کو چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور دوسرے پارٹی قایدین کے ہمراہ چترال کے ایک روزہ دورے پر آکر پولو گراونڈ میں جلسے عام سے خطاب کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی چترال کے ضلعی صدر و ایم پی اے سلیم خان نے قومی اسمبلی میں قاید حزب اختلاف جناب خورشید شاہ کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ چونکہ سن دو ہزار پندرہ کے تباہ کن سیلاب اور پھر زلزلوں کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے دورہ چترال میں سارے زرعی قرضوں کی معافی کا اعلان کیا تھا، جس پر تاحال عمل درآمد نہ ہوسکا، لہذاجناب خورشید شاہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قومی اسمبلی کے فلور پر اس سلسلے میں آواز اٹھاکر چترال کے زرعی قرضوں کی معافی کے لئے کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی چترال کے دونوں ایم پی ایز یک زبان ہوکر کہا کہ جب سن دوہزار دس عیسوی کے تباہ کن سیلاب اور دہشتگردی سے متاثرہ ملاکنڈ ڈویژن کے قرضہ جات معاف کئے گئے تو ان میں چترال کے ایک ارب چورانوے کروڑ روپے بھی شامل تھیں۔ جسے اسی وقت سید خورشید شاہ نے نوٹ کیا۔ اس سے اگلے روز گورنر کاٹیج چترال میں پی پی پی قیادت جیالوں کے وفود سے ملاقاتوں کا بندوبست کیا تو سب ڈویژن مستوج کے بعض جیالوں نے پھر زرعی قرضوں کی معافی کے مطالبے کو دھرایا اس کے جواب میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی میں ان قرضوں کی معافی کے لئے بھر پور آواز اٹھائینگے۔ اگر حکومت نے یہ قرضہ جات معاف نہیں کئے تو وہ اپنی طرف سے ان قرضوں کی معافی کا بندوبست کریں گے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک خوش نما اعلان ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چترالیوں پر واجب الادا چونتیس کروڑ سے زاید کے زرعی قرضے معاف کرنا ناگزیر ہے؟ کیا اس معافی کا چترال کے عام آدمی کو کوئی فایدہ پہنچے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر بالفرض چترالیوں پر واجب الادار چونتیس کروڑ روپے کے زرعی قرضے معاف کردئیے گئے تو کیا اس کا پاکستان پیپلز پارٹی کو اگلے عام انتخابات میں ضلع کی سطح پر کوئی فائدہ پہنچے گا؟

جذباتیت اپنی جگہ لیکن کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت مستقبل میں ان کے اثرات کا جائزہ لینا انتہائی اہم ہوتا ہے وگرنہ دیکھنے سے پاپولر نظر آنے والے فیصلوں کے معاشرے پرتباہ کن اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

زرعی بینک سے چترال کے جن لوگوں نے استفادہ کیا ہے اور جن لوگوں نے قرضے لئے ہیں۔ ان کی اکثریت غریب کسانوں یا زمینداروں کی نہیں بلکہ ان میں اکثریت بینک کے ہائی پرفائل اسٹاف اور چند ایک سرمایہ دار ہے جن کو بینکوں سے قرضے ملتے ہیں۔ جبکہ بینکوں کے الٹے سیدھے پراسیس اور پھر بینکوں کے عمل داروں کا رویہ اتنا غیر شائستہ اور غیر پیشہ وارانہ ہوتا ہے کہ ان سرکاری بینکوں سے عام آدمی کو قرض ملنا ممکن نہیں۔ چترالیوں پر جو چونتیس کروڑ روپے کے زرعی قرضے واجب الادا ہے وہ کسی غریب کسان کے نہیں بلکہ بینکوں کے اسٹاف اور چند سرمایہ داروں کے ہیں۔ ان نادہندہ گان کی اکثریت نہ صرف پی پی پی کے لئے دشمنی کا جذبہ رکھتے ہیں بلکہ وہ سارے اسٹیٹس کو کے حامل اور موروثی سیاست کے علمبردار ہیں۔ اگر یہ زرعی قرضے معاف ہوگئے تو اس کا پی پی پی کو انتخابات میں فایدہ ملنے کی بجائے الٹا نقصان ہوگا۔ کیونکہ جن نادہندہ سرمایہ داروں کے قرضے معاف ہونگے وہی پیسے انتخابات کے دنوں میں پی پی پی امیدواروں کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ اور پی پی پی ورکرز غریب دشمن سرمایہ داروں کے قرضوں کی یوں معافی اور انہیں مزید دولت مند ہوتے ہوئے دیکھ کر ریکشن کے طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اپنا ووٹ کاسٹ کرینگے۔ اس سے قبل کہ چترالیوں کے چونتیس کروڑ کے زرعی قرضوں کو بیک جنبش قلم معاف کردیا جائے، پی پی پی چترال کے اعلی عہدے داروں بالخصوص ایم پی ایز کو سوچ وبچار کے بعد کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اگر بالفرض یہ زرعی قرضے معاف ہی ہونا ہے تو ان کی مقدار پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہو اس سے زاید کے قرضے معاف نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ اگر پی پی پی قرضوں کی اس معافی سے سیاسی ہمدردی سمیٹنا چاہتے ہیں تو مائیکرو فینانس بینکوں سے لئے گئے قرضے بھی معاف کئے جائیں کیونکہ مائیکرو فینانس سے زیادہ تر غریب لوگ قرضے لے رہےہیں اور مائیکرو فینانس سے قرض لینے کا طریقہ کار بھی آسان ہوتا ہے جو سوسائیٹی کے ہر ممبر کے لئے ممکن ہے۔ مائکرو فینانس سے لئے گئے ان قرضوں کا ہجم ہر ممبر بیس ہزار سے پچاس ہزار تک ہیں۔ اسی لئے اگر پی پی پی چترال کے بینک قرضوں کی معافی کے لئے اتنے ہی بضد ہے تو برائے مہربانی زرعی بینک میں ایک لاکھ تک لئے گئے قرضوں کے ساتھ مائیکرو فینانس کے قرضے معاف کرانے کے لئے کوششیں کریں، وگرنہ بلاسوچے سمجھے زرعی قرضوں کی معافی کے ناقابل بیان اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget