25 اگست، 2017

نہ چھوڑا دل کو اے کافِر تیرے پیکان ایسے ہیں: داغ دہلوی

 

نہ چھوڑا دل کو اے کافِر تیرے پیکان ایسے ہیں
خُدا کا گھر اُڑا لیجائیں یہ مہمان ایسے ہیں

کریگا بیوفائی مجھ سے تو سامان ایسے ہیں
تیری جانب سے مجھ کو وہم میری جان ایسے ہیں

فرشتہ کو پکڑ رکھیں ترے دربان ایسے ہیں
خدا سے بھی نہیں ڈرتے یہ بے ایمان ایسے ہیں

اگر تُو بھی نکالے گا نہ نکلیں گے نہ نکلیں گے
مرے ارمان اتنے ہیں مرے ارمان ایسے ہیں

رقیبوں کو محبت کا ہے دعوی اے تری قدرت
یقیں ہے تم کو لو وہ بھی خدا کی شان ایسے ہیں

شرارت فتنہ اک اک بات میں ہے اُن کی اے قاصد
وہ بھولے بھالے کم سِن ایسے ہیں نادان ایسے ہیں

یہ سرکے ساتھ جائینگے۔ یہ دم کے ساتھ جائینگے
ہمارے سر پہ آصفجاہ کے احسان ایسے ہیں

بنائیں اور باتیں آپ اُن سے کیا غرض مطلب
یہ چن لیتے ہیں مطلب کی ہمارے کان ایسے ہیں

وہ جلوہ دیکھتے ہی آ گیا غش مجھ کو دعوی تھا
خطا ہوتی نہیں ہر گز مرے اوسان ایسے ہیں

یقیں ہم کو دلاتے ہیں وہ یوں جھوٹی قسم کھا کر
نہ ٹوٹیں حشر تک یہ عہد یہ پیمان ایسے ہیں

رقیبوں کو بٹھا کر بزم میں کہتے ہیں وہ مجھ سے
جواب انکا نہیں دیکھو مرے مہمان ایسے ہیں

تمھارا ساتھ دینگے حشر میں یہ بھی یقین جانو
تمھارے جاں نثار وں میں بہت انسان ایسے ہیں

کہیں لٹوا دیا جو بن کہیں چروا دیا دل کو
بھرے جائیں نہ تجھ سے بھی ترے نقصان ایسے ہیں

تری تصویر بھی آئینہ بھی عاشق کی آنکھیں بھی
کسی میں دم نہیں محفل میں یہ حیران ایسے ہیں

بہارِ باغِ عالم ہم نے لوٹی داغ مدت تک
کوئی دن کی ہوا کھاتے ہیں اب سامان ایسے ہیں

داغ دہلوی




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget