10 اگست، 2017

پاکستان کی مدر ٹریسا انتقال فرما گئں، اللہ انہیں اجرعطا فرمائے

 

پاکستان کی مدر ٹریسا انتقال فرما گئں، اللہ انہیں اجرعطا فرمائے

تحریر : ابوالحسنین
جرمنی سے ایک حسین دو شیزہ ہندوستان جانے کے لئے نکلی۔ یہ 60 سال قبل کی بات ہے۔ یہ 1955 کی بات ہے جب پاکستان نیا نیا معرض وجود میں آیا تھا۔  یہ دوشیزہ  بھارتی جانے کے لئے کراچی پہنچی، تو کراچی میں کچھ دنوں کے لئے انہیں رکنا پڑا۔  انہیں خدمت خلق کا جنون تھا، بلکہ یوں سمجھیں کہ یہ پیدائشی خدائی خدمت گار تھیں۔ 

اس زمانے میں کوڑھ کی بیماری نے پاکستان کو گھیرا ہوا تھا، کراچی سے خیبر تک شہر شہر، قصبہ قصبہ متاثر تھے۔ کوڑھ کو  ایک انتہائی مہلک اور موذی  بیماری سمجھی جاتی تھی اور لوگ اسے لگنی والی یا منتقل ہونے والی بیماری سمجھتے تھے۔ اور اس بیماری میں متبلا افراد کو گھر سے دور کسی ایسی جگہ رکھتے تھے جہاں کوئی نہ پہنچ سکے۔  یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس وقت کوڑھ کی بیماری میں مبتلا لوگوں کی ایک بستی قائم ہوگئی تھی۔ جہاں جہاں  کوئی فرد کوڑھ کی بیماری میں مبتلا ہوتا یہاں لاکر چھوڑ جاتے تھے، چاہے وہ ماں ہو، باپ، بیٹا، بیٹی اور کوئی اور عزیز۔ 

کوڑھی لوگ بد ترین حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ کوڑھی مرد، خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان انتہائی کسم پرسی کی حالت میں ان بستیوں میں زندگی گزار رہے تھے۔  زمانہ چونکہ بہت پرانا تھا اس لئے لوگوں کو مرض کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں تھی۔  جوں ہی اس بات کا علم اس جرمن فرشتہ صفت لڑکی کو ہوئی۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوڑھیوں کی بستی جا پہنچیں۔ کہا جاتاہے کہ اس زمانے میں کینٹ اسٹیشن کے باہر کوڑھیوں کی بستی قائم ہوئی تھی۔ جبکہ دوسری بستی سٹی اسٹیشن کے آس پاس آباد تھی۔ جرمن دوشیزہ بستی پہنچیں تو دیکھا کہ بستی میں جگہ جگہ غلاظت، گندگی، گٹر کا پانی کھڑا تھا جبکہ کوڑھی افراد بستیوں میں روپوش پڑے تھے۔ چونکہ ریلوے اسٹیشن  پر اجاج کی بوریوں سے بھری بوگیاں کھڑی ہوتی تھیں اس لئے ان بوگیوں سے بڑے بڑے چوہے نکل کر کوڑھیوں کی بستیوں میں آتے اور کوڑھی  کے مریضوں  کے کوڑھ زدہ حصوں کو  کتر کتر کر کھا جاتے تھے، ان کو احساس تک نہ ہوتا تھا۔  


حسین و جمیل جرمن لڑکی ان بستیوں  کے اندر پہنچیں اور انہیں حوصلہ دیا، انہوں نے لوگوں کو  بتایا کہ کوڑھ کوئی موذی مرض نہیں ، مریضوں کو اس طرح پھینک دینا اچھی بات نہیں ان کو پیار دیں یہ لوگ آپ کی رحم کے مستحق ہیں۔ ان مریضوں کو دیکھ کر جوال سال جرمن لڑکی ہندوستان جانے کا ارادہ ترک کیا اور اور مستقل طور پر اسی شہر کراچی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔  انہوں اپنے ساتھیوں سمیت کوڑھیوں کی بستی میں صفائی ستھرائی کا کام کیا  اور کوڑھ کے مریضوں کو جن کو ان کے عزیز ہاتھ نہیں لگاتے تھے، اپنے ہاتھوں سے  ان کے کوڑھ زدہ حصوں پر مرہم  رکھا۔  ان حالات میں انہوں نے یہاں عظیم ترین انسانی خدمت کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیلا دیا۔  اس وقت صوبہ سرحد (اب کے خیبرپختونخوا) میں یہ مرض بہت زیادہ تھا، پنجاب اور بلوچستان بھی محفوظ نہیں تھے، مگر آج اس عظیم ہستی کی بدولت پورے پاکستان سے کوڑھ کا موذی مرض تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

جی ہاں یہ عظیم ہستی اور عظیم انسانی خدمت گار  ڈاکٹر روتھ فاؤ ہے، جن کی انتھک کوششوں کی بدولت 1996 میں عالمی ادارائے صحت نے پاکستان کو کوڑھ فری ملک قرار دیا، اور یوں پاکستان کوڑھ کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے والا  ایشاء کا  پہلا ملک بن گیا۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ 9 ستمبر 1929 کو لیپ زگ، جرمنی میں پیدا ہوئیں، ان کی 4 بہنیں اور ایک بھائی تھے، 1949 میں میڈیسن کی تعلیم مکمل کی ۔ انسانی خدمت کے لئے فاؤ نے اپنا سارا خاندان، دوست اور یہاں تک کہ
جرمن قومیت چھوڑ دی۔ اور پاکستان آئیں اور یہیں کی ہوگئیں۔  ڈاکٹر روتھ فاؤ کو 1988 میں پاکستانی شہریت دی گئی، ڈاکٹر روتھ کو ہلال پاکستان ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، انہیں 2010 میں نشان قائد اعظم بھی دیا گیا۔   ڈاکٹر روتھ فاؤ  اپنے زندگی کے 50 سال پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کی خدمت میں گزار کر  آج 10 اگست 2017 کو  کراچی میں انتقال کرگئیں۔  اللہ انہیں ان کی خدمات کا اجر عطا فرمائے۔

دی لاسٹ ورڈ از لو، ایڈوانچر، میڈیسن اور وار اینڈ گاڈ ان کی تصانیف ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget