5 ستمبر، 2017

اس سال دنیا بھر سے آئے ہوئے 20 لاکھ عازمین نے فریضہ حج ادا کیا، سب سے زیادہ حاجی پاکستان سے گئے

 

سب سے زیادہ حاجی پاکستان سے گئے، ایک لاکھ 84 ہزار پاکستانی عازمیم نے فریضہ حج ادا کیا



جدہ  (نیوز ڈیسک ٹائمزآف چترال 5 ستمبر 2017)  مناسک حج کے باقاعدہ آغاز پر سعودی حکومت نے اعلان کیا کہ رواں سال 20 لاکھ عازمین فریضہ حج سرانجام دے رہے ہیں۔ 

خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد سلمان کی نگرانی میں سعودی حکومت حج کے انتظامات اور ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔ 

سعودی وزیر ثقافت و اطلاعات ڈاکٹر عواد الوعد نے بتایا، 'ہر سال حج کی میزبانی سے ہمیں دلی سکون ملتا ہے اور اس بھاری ذمہ داری سے بااحسن و خوبی عہدہ براں ہونا ہمارے لئے عزاز کی بات ہے۔ ہم عازمین کی دیکھ بھال میں کوئی کمی رہنے نہیں دیتے اور ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے ان افراد کا خیرمقدم کیا جائے جو اپنے مذہبی فریضہ کی انجام دہی کے لئے کوشاں ہوں۔ '

رواں سال درجنوں ممالک سے عازمین فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے آئے ہیں۔ ان میں دیگر ملکوں کے عازمین حج کی تعداد کچھ یوں ہے۔ پاکستان سے ایک لاکھ 84 ہزار، بھارت سے ایک لاکھ 70 ہزار، بنگلہ دیش سے ایک لاکھ 27 ہزار، ترکی سے 90 ہزار، ملائیشیا سے 41 ہزار 200، روس سے 23 ہزار 500، چین سے 12 ہزار 700، فلپائن سے 6 ہزار اور جنوبی افریقہ سے ساڑھے تین ہزار سمیت دنیا بھر سے افراد فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب آچکے ہیں۔ 

تقریبا 94 فیصد عازمین ہوائی جہاز سے سعودی عرب پہنچے۔ عازمین کی بڑی تعداد میں آمد سے پیدا ہونے والے رش کو کم کرنے اور مسافروں کی روانی کے ساتھ نقل و حرکت کو باسہولت بنانے کے لئے جدہ اور مدینہ ایئرپورٹس پر عازمین حج کے لئے الگ سے ٹرمینل بنا دیئے گئے ہیں۔ 

بعض عازمین بس، منی وین اور گاڑیوں پر سفر کرکے فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں اور اس حوالے سے 30 ہزار سے زائد گاڑیاں آچکی ہیں۔ اس کے علاوہ 17 ہزار سے زائد خصوصی بسیں بھی چلائی جاتی ہیں جو حاجیوں کو متعین مقام پر لے کر جاتی ہیں۔ 

حج کے دوران کھانے کے 26 لاکھ 40 ہزار سے زائد پیکٹ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ سعودی ہلال احمر ادارہ کے 2 ہزار سے زائد اہلکار مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور دیگر مقدس مقامات پر عازمین کو حج کی خدمات کی فراہمی کے لئے تعینات کئے گئے ہیں۔ 

سعودی وزارت صحت کے مطابق رواں سال حج کے موقع پر اب تک 2100 عازمین کا علاج کیا جاچکا ہے۔ 

حج کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں اور وسائل کا انتظام انفرادی اور مجموعی طور پر یادگار ہوتا ہے چاہے عازمین کسی عمر، پس منظر کے حامل مسلمان ہوں۔ 

ان میں سب سے معمر عازم انڈونیشیا کی 104 سالہ خاتون ماریہ مرغنی محمد ہیں۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران انکے آرام کو یقینی بنانے کے لئے وسیع اقسام کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ 

سفر حج دنیا کے قدیم مذہبی تہواروں میں شامل ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے عازمین کی دیکھ بھال اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر عازم کے پاس اسکی ذاتی اور طبی نوعیت کی معلومات سے متعلق شناخت کے لئے الیکٹرانک کڑا موجود ہے جس کی بدولت مناسک حج پر مامور حکام بوقت ضرورت ان افراد کی نشاندہی کرکے ان کو ضروری سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔ 

پانی سے محفوظ اور جی پی ایس ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ کڑا عازمین کو نماز کے اوقات کار سے آگاہ کرنے کے ساتھ مناسک حج کی ادائیگی کے لئے بھی باآواز رہنمائی کرے گا۔

سعودی عرب کی وزارت ثقافت و اطلاعات (ایم او سی آئی) نے دو ڈیجیٹل پلیٹ فارم (Hajj2017.org) اور (SaudiWelcomesTheWorld.org) شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو دنیا بھر کے ناظرین و سامعین اور مقامی و بین الاقوامی افراد اور میڈیا کو عازمین اور حج سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔

مناسک حج کا اختتام 4 ستمبر کو ہوگیا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget