ستمبر 25, 2017

کراچی: فش فیکٹری کے کیمکل ٹینک میں گرکر 3 چترالی نوجوان جان بحق، دو سگے بھائی تھے


کراچی (ٹائمزآف چترال ‏25‏ ستمبر‏، 2017) بروز ہفتہ 23 ستمبر 2017 کی شام کو کراچی کے ابراہیم حیدری میں واقع فش فیکٹری کے کیمکل ٹینک میں گر کر 2 سگے بھائیوں سمیت 3 افراد جان بحق ہوگئے۔ جان بحق تینوں افراد کا تعلق چترال کے تحصیل لوٹ کوہ سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق بہادر، بہادر اللہ اور رحیم بالاجی ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے ٹینک میں گر گئے۔ بہادر اور بہادر اللہ سگے بھائی تھے۔ سگے بھائیوں کا تعلق چترال کے علاقے گرم چشمہ جبکہ رحیم بالاجی کا تعلق کریم آباد بریش گام اورعوچ سے ہے۔ بہادر اور بہادر اللہ ولد یمبو خان گرم چشمہ کے رہائشی، یمبو چترال سکاؤٹ سے ریٹائرڈ ہیں۔ پہلے جب ایک بھائی بہادر پاؤں پھسل جانے سے ٹینک کے اندر جا گرا اسے بچانے کے لئے دوسرا بھائی ٹینک میں کودا، پھر دونوں کو بچانے کے لئے رحیم بالاجی کودے چونکہ ٹینکی میں کیمکل ملے اسٹیم ہوتی ہے اس وجہ سے فوراً دم گھٹنے سے تینوں افراد جان بحق ہوئے۔ تینوں کا بچانے کے لئے کودنے والا بنگالی شخص آدھا ٹینکی میں اور آدھا حصہ باہر رہ جانے سے زندہ تو بچا لیکن آدھا جسم مفلوج ہوگیا۔ بہادر کی عمر 30 سال۔ بہادر اللہ 40 اور بالاجی کی عمر 35 سال بتائی جاتی ہے۔

تینوں افراد کی جسد خاکی قانونی کاروائی کے لئے جب جناح ہسپتال لائی گئیں تو سندھ پولیس نے اپنا روایتی طرز عمل اپنایا اور لواحقین کو ڈیتھ سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار کیا اور کھلم کھلا رشوت کا مطالبہ کرڈالا۔ جس کے بعد لواحقین، فیکٹری انتظامیہ اور پولیس میں کافی جھگڑا ہوا۔ پولیس رشوت پر ڈٹی رہی ۔ جس کے بعد لوحقین معاملہ لیکر فوراً آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے رہائشی گاہ واقع کلفٹن پہنچ گئے اور پولیس کے رویے سے خواجہ صاحب کو آگاہ کیا۔ آئی جی اے خواجہ نے فوراً نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس ڈپارٹمنٹ فون کیا تو وہی پولیس بعد ازاں لواحقین کے پاؤں پڑھ گئی اور فوری طوری پر سرٹیفیکٹس بناکر دیئے اور معافی بھی مانگی۔ اور مزید کوئی کاروائی نہ کراونے کی منتیں کرنے لگی۔ 

غم سے نڈھال لوحقین کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ انتہائی افسوسنال اور محکمہ پولیس کے باعث شرم ہے۔ بجائے لواحقین کو کمپنسیٹ کرنے کے انہی سے رشوت کا مطالبہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ جناح ہسپتال میں متعین مذکورہ راشی پولیس افسران اور ان کے ماتحت عملے پر فوری کاروائی ہونی چاہئے۔ ہم آئی جی سندھ اور سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مذ کورہ پولیس عملے کے خلاف فوری کاروائی کریں۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget