14 ستمبر، 2017

الجزائر: جماعت احمدیہ (قادیانی) کے سربراہ کو ’توہین اسلام‘ کے جرم میں سزا

شمالی افریقہ کی عرب مسلم ریاست الجزائر کی ایک عدالت نے ملک میں جماعت احمدیہ کے سربراہ کو ’توہین اسلام‘ کے جرم میں چھ ماہ کی معطل سزائے قید سنا دی ہے۔ الجزائر میں احمدیہ برادری کے ارکان کی تعداد قریب دو ہزار ہے۔

الجزائر کے دارالحکومت سے بدھ تیرہ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس عرب ریاست میں احمدیہ برادری کے سربراہ کا نام محمد فالی ہے۔ ان کے وکیل صلاح دبوز نے بدھ کے روز تصدیق کر دی کہ محمد فالی کو ایک ملکی عدالت نے ’غیر قانونی طور پر مالی وسائل جمع کرنے اور ایک مذہب کے طور پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کرنے‘ کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ کی معطل سزائے قید سنا دی ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ احمدیہ برادری کے افراد خود کو مسلمان سمجھتے ہیں لیکن اسلام کے مرکزی دھارے کی تقلید کرنے والے مختلف فرقوں کے رہنماؤں کے مطابق احمدی باشندے ایک مذہب کے طور پر پر مسلم عقیدے میں ایسی تبدیلیوں کے مرتکب ہوئے، جن کے بعد کئی مسلم اکثریتی معاشروں میں انہیں مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ انہی میں سے ایک ملک پاکستان بھی ہے، جہاں احمدیوں کو کئی عشروں سے آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ الجزائر میں احمدیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پچھلے سال سے جاری ہے۔ جس مقدمے میں محمد فالی کو سزا سنائی گئی، اس کی سماعت الجزائر کے ایک مغربی ساحلی شہر مستغانم میں ہوئی۔ اس مقدمے سے پہلے محمد فالی نے اپنے خلاف اسی نوعیت کے الزامات کے بعد سنائے جانے والے ایک دوسرے مقدمے میں فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔ پہلی بار اس طرح کے مقدمے میں فالی کو تین ماہ کی معطل سزا سنائی گئی تھی اور فالی اس دوران عدالت میں خود پیش بھی نہیں ہوئے تھے۔




اصل سورس پر مزید پڑھیں:  ڈی ڈبلیو اردو

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget