اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

22 ستمبر، 2017

سکول چپڑاسی نے سکول کی ننھی سی بچی کو درندگی کا نشانہ بنا ڈالا

 



بھارت (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک 22 ستمبر 2017) سکولوں میں جنسی زیادتیوں کے واقعات جہاں ہر ملک میں کہیں نہ کہیں ہوتے رہتے ہیں لیکن بھارت اس معاملے میں سب سے آگے۔ بھارت کے پانی پت کے ایک سکول میں سکول چپڑاسی نے ایک 9 سال کی ننھی سی بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا ہے، واقعے کی پوری خبر رکھنے کے باوجود جسے چھپانے کی سکول انتظامیہ نے سر توڑ کوشش کی۔ پانی پت کے دی میلینیم نامی سکول میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جہاں سکول کے چپڑاسی نے ننھی بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل ایک اور واقعے نے بھارت کو ہلا دیا تھا ایسے ہی ایک واقعے میں ایک 7 سال کی بچی جان بحق ہوئی تھی یہ واقعہ ریان انٹر نیشنل سکول میں پیش آیا تھا۔ 

سکول انتظامیہ واقعے کو دبانے کی کوشش کی لیکن گزشہ روز متاثرہ بچی کے ایک عزیز نے پولیس میں شکایت درج کی تو واقعہ کھل کر سامنے آگیا۔ جس کے بعد پولیس نے سکول کے5 میل سویپرز  سے پوچھ گچھ کی، تفیتیش کے بعد مجرم کی شناخت ہوگئی جسے پولیس نے گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ وقوعہ کے روز بچی کا میتھ کا امتحان تھا۔ والد نے بچی کو 7 بج 40 منٹ پر سکول ڈراپ کیا اور ساڑے 9 بجے سکول سے فون آیا کہ اس کی بچی سکول میں بہت رو رہی ہے۔ بچی امتحان بھی نہ دے سکی تھی، بچی کی حالت خراب تھی۔ والد اسے لیکر واپس گھر آیا تو والدہ نے بچی کا معائنہ کیا جس سے معلوم کے کہ بچی کے جسم پر خراش تھے یہ نشانات بچی کے حصہ مخصوصہ اور گردن پر تھے۔ ماں کے استفسار پر بچی نے سارا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر ماں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں