اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 ستمبر، 2017

بریکنگ: بے نظیربھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو کس نے قتل کیا۔ پرویز مشرف نے نام لیکر بتا دیا

دبئی (نیوز ڈیسک) اپنے اوپر عائد تمام الزام کو مسترد کرتے ہوئے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا ہے۔ ان کے قتل سے ان کو کیا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری نے قتل کروایا ہے۔ بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمہ دار زارداری ہے۔ بے ںظیر کے قتل سے مجھے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے۔

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو عام انتخابات کی مہم کے سلسلے میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے کے اختتام پر گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے فائرنگ اور بم دھاکہ کے نتیجے میں شہید ہو گئی تھیں۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف کا کہنا کہ آصف زاردی کی للکار میری برداشت سے بہار ہے اس جو جواب ضرور دوںگا۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے بے نظیر بھٹو اوران کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا ذمہ دار آصف علی زرداری کو قرار دیا۔

پرویز مشرف نے کہا کہ دیکھنا چاہیے کہ بے نظیر کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا؟ کس نےبےنظیر کو ٹیلی فون کرکےگاڑی سے باہر نکلنے پر اکسایا؟ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کے قتل کا فائدہ ایک ہی آدمی آصف زرداری کو ہوا، بیت اللہ محسود کو سازش کرکے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خالد شہنشاہ کو بینظیر بھٹو کا سیکورٹی انچارج آصف زرداری نے بنایا۔ وہ قتل کے وقت بینظیر بھٹو کی گاڑی میں دوسرے لوگوں کے ساتھ موجود تھا پھر کچھ دن بعد کراچی میں خالد شہنشاہ کو بھی مشتبہ حالات میں مروادیا گیا۔ پرویز مشرف نے قتل کی سازش میں سابق افغان صدر کرزئی اور بیت اللہ محسود کو شامل قراردیا۔
مشرف نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ بے نظیر بھٹو کی واپسی کا روٹ کس نے اور کیوں تبدیل کرایا۔ انہوں نے کہا کہ زارداری اور اہم شخص کی صدر کرزئی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔
پرویز مشرف نے بے نظیر کے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلاول، آصفہ اور بختاور کو بتانا چاہتے ہیں کہ بے نظیر کا اصل قاتل کون ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں