ستمبر 23, 2017

چترال آوی میں پیش آنے والے دل دہلانے دینے والے واقعے پر انتہا پسندانہ رویہ (فکر فردا) کریم اللہ

آج سے کوئی 15 روز قبل چترال کے خوبصورت گاؤں بونی سے متصل آوی میں حسنہ پروین نامی ایک پندرہ سالہ لڑکی کی خود کشی کا واقعہ پیش آیا ، مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں میں اس واقعے کو اغواء،اجتماعی ریپ اور قتل کا واقعہ قرار دیا گیا ۔ البتہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی مفصل رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اس سلسلے میں خاکسار نے کئی دنوں کی کوششوں کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی ۔ جس میں ہم نے علاقے کے معتبر افراد ، لڑکی کے والد اورپولیس ذرائع سے کیس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد جہاں اس پرخاصی تنقید ہوئی وہیں بعض لوگوں نے حوصلہ آفزائی بھی فرمائیں۔ ان ساری باتوں سے ہٹ کر آج گزشتہ رپورٹ میں موجود چند خامیوں کو درست کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا میں چلنے والی تعصب پر مبنی انتہا پسندانہ رویوں پر بھی نگاہ ڈالنے کی کوشش کرونگا ۔

اس سلسلے میں ایک ملزم کے بھائی نے فون کرکے کئی ایک شکایت کی ان کا موقف تھا کہ چونکہ ان کا بھائی کم سن یعنی پندرہ سالہ ہے وہ ایساگھناؤنا جرم نہیں کرسکتے ۔ اس کے علاوہ ان کا موقف تھا کہ کیس پولیس کے زیر انتظام تفتیش کے مراحل میں ہے لہذا ان کے بھائی کو مجرم کہنا انتہائی زیادتی ہے۔ 

اس کیس میں نامزد چارملزمان پولیس تحویل میں ہے ابھی تک انہوں نے اقبال جرم کیا ہے یا نہیں اور ان پر کوئی جرم ثابت ہو گیا ہے یا نہیں ہمیں اس کا کوئی علم نہیں۔کیونکہ پولیس اس حوالے سے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ ان چاروں افرادکو قانون کی نگاہ میں اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک کہ ان پر جرم ثابت نہ ہو۔ میں اپنی رپورٹ میں بھی کہیں انہیں مجرم نہیں البتہ ملزم ضرور لکھا تھا۔ اس سلسلے میں چترال پولیس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کیس میں جن جن دفعات کے تحت مقدمات درج کئےہیں ان کے متعلق ہمیں آگاہی دیں ۔اس کے علاوہ لڑکی کے پوسٹ ماٹم رپورٹ کاابھی تک منظر عام پر نہ آنا بھی بہت سارے سوالات کا باعث بن رہے ہیں ۔

سوشل میڈیا ئی دانشوروں کا تعصب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے ہر انسان کے اندر کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی نفرت ،عداوت اور تعصب کا عنصر پایا جاتا ہے ۔جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے اس نفرت کو تشت ازبام کرکے رکھ دیا ہے ، اور آج ہم سب سوشل میڈیا کے بابرکت دنیا کے سامنے بے نقاب اور ننگے گھوم پھر رہے ہیں ۔ یہی کچھ آوی میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا میں دیکھنے کو ملا جب کچھ انتہا پسندوں نے ان مجرموں کے خاندانی پس منظر کو لے کر پورے چترال کے رہائشی سادات فیملی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش شروع کی ۔یہی نہیں بلکہ ایم پی اے مستوج سردارحسین کو بھی پروپیگنڈے کے دلدل میں گسیٹھنے کی کوشش ہوئی ۔

جرم تو جرم ہوتا ہے اس میں معاشرے کا کوئی فرد بھی شامل ہوسکتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک ایسی نسل پروان چڑھ چکی ہے جو توڑ پھوڑ اورجرائم کے ارتکاب کے بعد خوشی محسوس کرتی ہیں اور خاندان کے افراد ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کے بجائے مزید ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہوتے ہیں ۔ جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد میں رنگ ونسل ،مذہب ومسلک سے ہٹ کر نوجوان نسل کی بڑی کثیر تعداد ملوث ہے ۔ جو لوگ آوی میں پیش آنے والے واقعے کا الزام سادات برادری پر ڈال رہے ہیں وہ اپنی ذاتی نفرت وعداوت کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔جبکہ خاکسار نے اپنی رپورٹ کی تیار ی کے دوران اس لڑکی کے والد مومن نظار بیگ سے بار بار استفسار کیا کہ آپ پر کسی قسم کی سماجی یا سیاسی دباؤ تو نہیں تو ہر بار مومن نظار بیگ نے نفی میں جواب دیا ۔ ایم پی اے سردارحسین پر لگائے گئے الزامات کے بابت پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ نہ سردارحسین صاحب نے میرے ساتھ رابطہ کیا ہے اور نہ ہی مجھے ان کے اس کیس میں ٹانگین لڑانے کی کوئی اطلاع ہے ۔ جو باتین گردش کر رہی ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔ 

جو لوگ اس کیس کو نسلی تعصب کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں وہ اپنی ذاتی انا کے لئے دوسروں پر الزامات لگارہے ہیں ان الزامات سے کیس کی نوعیت پر کوئی مثبت اثر تو نہیں پڑے گا البتہ نفرت وعداوت کی فضاء مزید بڑھ سکتی ہے ۔ ذاتی پسندوناپسند یا نفرت وعداوت کو لے کر تعصب پھیلانے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget