ستمبر 25, 2017

چترال کا شاہی بازار سیاحوں کی توجہ کا مرکز۔ ملکی اور غیر ملکی چترالی سوغات کو نہایت شوق سے خریدتے ہیں

 


چترال (گل حماد فاروقی) چترال کا تاریحی شاہی بازار ان دنوں سیاحوں کا توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چونکہ چترال پہلے ایک آزاد ریاست تھا جہاں مہتر خاندان کی حکومت تھی اور شاہی حاندان کے لوگ اسی بازار میں خریداری کرتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام شاہی بازار پڑ گیا۔

ہمارے نمائندے گل حماد فاروقی نے شاہی بازار میں چند افراد سے بات کی ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چترال شاہی بازار کی مشہور سوغات خشک اور تازہ پھلوں کے علاوہ ہاتھ سے بنے ہوئے اونی کپڑے ہیں۔ یہاں بھیڑ بکریوں کی اون سے دھاگہ بنایا جاتا ہے اور دھاگے سے کڈی کے زریعے کپڑے کی میٹریل تیار ہوتی ہے۔گھروں میں بھیٹے ہوئے خواتین چرحی (چرخہ) کے زریعے اس اون سے ہاتھوں کے ذریعے دھاگہ بناتی ہیں۔

اس کپڑے سے چترالی ٹوپی، (پکول)، چوغہ، کوٹ، واسکٹ ، شال اور خواتین کی ملبوسات تیار کی جاتی ہے۔جسے نہ صرف مقامی لوگ شوق سے خریدتے ہیں بلکہ غیر مقامی سیاحوں کے علاوہ بیرون ممالک سے آئے ہوئے سیاح بھی ان سوغات کو خریدتے ہیں۔

اب تو چترالی ٹوپی اتنی مشہور ہوگئی کہ ہندوں طبقے کے لوگ بھی اپنی شادی بیاہ میں اسی ٹوپی کو استعمال کرتے ہیں۔

گھریلوں خواتین شاہ توت کو خشک کرکے بیچتے ہیں کیونکہ اس توت میں بیچ نہیں ہوتا اور اسے بے دانہ توت کہتے ہیں جو نہایت میٹھے ہوتے ہیں

تاہم حکومتی سطح پر اس صنعت کو کوئی پذیرائی یا اسے ترقی دینے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت چترال کے اس صنعت کو ترقی دیکر خقیقی معنوں میں غربت کا حاتمہ ہوسکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget