30 اکتوبر، 2017

لڑکی کی شادی کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 کردی گئی۔جعلی عاملوں اور پیرو پر پابندی کا بل منظور

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) لڑکی کی شادی کی عمر 16 سے بڑھا کر 18 کردی گئی۔ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظور کر لیا، یہ بل سینیٹر سحر کامران نے پیش کیا تھا۔ سینیٹ نے جادو ٹونے کی روک تھام کا بل بھی منظور کرکرلیا ہے۔

وزارت مذہبی امور کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلامی نقطہ نظر سے بلوغت کی عمر کو پہچنے پر لڑکی کی شادی کر دی جائے جس پر اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندے نے کہا کہ ایک ریسرچ کے مطابق نو سال سے اوپر بلوغت تصور ہوتی ہے۔

اسلامی اسکالر ڈکٹر منیر نے بتایا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کو نہ ہم پراپرٹی خریدنے دیتے ہیں نہ گاڑی چلانے دیتے، تو پھر انکی شادی کیوں کر دیں۔ کمیٹی میں موجود این جی او کے نمائندہ نے کہا کہ کم عمری کی شادی سے کم عمر میں ماں بننے کی وجہ سے ماں کی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں، کم عمری لڑکیوں کی اولاد کی پیدائش کے وقت اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

جادو، ٹونا اور جعلی پیروں و عاملوں کے حوالے سے بحی بل پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے ملک بھر میں جادو ٹونے کی روک تھام، کالے جادو پر پابندی اور جعلی پیروں و عاملوں کے خلاف سخت کارروائی کا بل بھی منظور کرلیا ہے۔ بل میں کالا جادو کرنے والے شخص کو کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 7 سال تک سزا اور پچاس ہزار روپے سے 2 لاکھ روپے تک جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔  بل میں جادو ٹونے سے متعلق اشیا رکھنے والے کو 25 ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ قرآن کو جادو ٹونے کیلئے استعمال کرنے پر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ 

قبر کھولنے پر پابندی ہوگی، جبکہ ایسا کرنے والے کو 7 سال قید اور 1 لاکھ جرمانہ ہوگا۔ بل میں قبرستانوں میں کالا جادو کرنے پر پابندی، قبر یا مردے کے اوپر کالے جادو کے لئے نہانے پر بھی پابندی اور تابوت اور کفن چوری پر سزائیں تجویز کی گئیں ہیں۔  جادو ٹونے سے متعلق اشتہارات، اشاعت اور کتابیں بیچنے یا خریدنے پر پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور جرمانہ کیا جائے گا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget