21 اکتوبر، 2017

چترال یارخون میں 6 ماہ قبل قتل ہونے والے نوجوان اسلم بیگ کے قتل کا ایف آئی آر مستوج تھانے میں مقتول کی بیوی اور آشنا کے خلاف درج، ورثاء انصاف کے منتظر


چترال یارخون میں 6 ماہ قبل یعنی اپریل 2017 میں قتل ہونے والے نوجوان اسلم بیگ کے قتل کا ایف آئی آر مستوج تھانے میں مقتول کی بیوی اور آشنا کے خلاف درج، ورثاء انصاف کے منتظر

چترال (ابوالحسنین: سپیشل رپورٹ ٹائمز آف چترال 20 اکتوبر 2017) 6 ماہ قبل یار خون بریب میں قتل ہونے والے نوجوان اسلام بیگ ولد پردوم کی روح اور ورثاء انصاف کے لئے در بدر پھر رہے ہیں۔ اسلم بیگ کو قتل ہوئے 6 ماہ اور 12 دن کا عرصہ گزر گیا۔ پولیس تاحال ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں تھی۔ کرغیزستان میں مقیم مقتول کے عزیز کا کہنا کہ مستوج تھانے کا ایس ایچ او ملزم کا واقف کار ہے اور ملزم پولیس میں ملازم ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ملزم اور ملزمہ کے خلاف ایف آر کارٹنے سے انکار کردیا تھا۔ بیرون ملک مقیم مقتول کا کزن رستم ولد ہدایت خان مستوج تھانے میں واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لئے ٹیلی فون کیا تو تھانے کے ایس ایچ او نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا ہے کہ مقتول کا والد آجائے جبکہ ان کا والد اس وقت مزدوری کے سلسلے مین اسلام آباد میں تھا۔ اور مقتول کے بھائی چھوٹے ہیں۔ جبکہ رستم بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں، مقتول کے واپسی کے دن ہی چھٹیاں ختم کرکے بیرون ملک واپس چلے گئے تھے۔ ان کے جانے کے کچھ دن بعد ہی قتل کا واقعہ پیش آیا۔

مقتول کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ مقتول اسلم بیگ شادی کے ایک سال بعد روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب چلا گیا۔ مقتول کے لواحقین کا کہنا کہ اسلم کے سعودیہ جانے کے بعد اس کی اہلیہ کا ایک پولیس اہلکار سے ناجائز تعلقات پروان چڑھے اور یہ تعلقات دو سال میں اتنے مضبوط ہوگئے کہ وہ اپنے حقیقی شوہر کو بھلادیا۔ دو سال بعد جب چھٹیوں پر اسلم گھر لوٹا تو اس وقت مذکورہ پولیس اہلکار سوات میں تعینات تھا، اسلم کے آنے کی خبر ملتے ہی اسے مقتول کی بیوی نے بلوا رکھا تھا، دونوں کے اس وقت ٹیلی فونک رابطے تھے۔ اس کی بیوی اپنے آشنا کے ساتھ اس کے قتل کی منصوبہ بندی پہلے ہی کرچکی تھی۔ واپسی والی رات ہی اسلم کو اپنے آشنا کے ساتھ قتل کردیا۔ مقتول کے ایک اور عزیز نے مزید بتایا کہ مقتول اسلم شدید زخمی تھا، اس کے جسم گلے پر زخموں کے گہرے نشانات تھے۔ ملزم پولیس اہلکار پہلے سے شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے۔ تاہم ابھی تک یہ الزامات ہیں پولیس کو چاہئے کہ اس کیس کو صحیح معنوں میں تفتیش کرے اور ملزمان کو پکڑ کر قانون کے کٹھرے میں لا کھڑا کرے۔

اسلم کا قتل معمہ بن چکا تھا لیکن عزیزوں کو اس کی بیوی پر شک تھا۔ اسلم کے والدین بے حد غریب تھے اس وجہ سے وہ کیس کو آگے نہ بڑھاسکے۔ لیکن بیٹے کی یوں اچانک جدائی کا غم بھولنے والا نہیں تھا۔ اسلم کے عزیزوں کے بے حد اصرار پر اس معاملے کو دوبارہ اٹھا لیا گیا۔ اسلم کے ایک عزیز نے ٹائمز آف چترال کو بتایا کہ جب دونوں ملزمان کے فون ریکارڈز نکال کر چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ دونوں کے گہرے روابط تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ لڑکی شوہر کے قتل کے کچھ ہی عرصہ بعد مذکوہ پولیس اہلکار سے شادی کر بیٹھی۔ موبائل کالز ریکارڈ سامنے آنے کے بعد لواحقین کا شک یقین میں بدل گیا اور ایک بار پھر مستوج تھانے میں فرسٹ انویسٹیگیشن رپورٹ درج کروانے کے لئے رجوع کیا لیکن وہاں کے موجودہ ایس ایچ او نے معاملہ رفع دفع کرنے کے لئے دباؤ ڈالا اور صلح نہ کرنے کی صورت میں جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دیں۔ اور معاملہ مجسٹریٹ کے سامنے چلا گیا۔

مقتول کے ورثا نے بتایا کہ مستوج تھانے کے ایس ایچ او نے مقدمے کے مدعی حکیم اور دیگر افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے مجسٹریٹ سے مداعلیان کے بجائے مدعیوں کے جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ کیا جس پر مجسٹریٹ نے ایس ایچ او کو ڈانٹ پلادی، اور کہا کہ کس نے تمہیں ایس ایچ او بنایا ہے۔ تب جاکے مذکورہ ایس ایچ او کا ہوش ٹھکانہ آگیا اور مدعیوں کو لیکر مستوج تھانے گیا اور ایف آر ملزمان مقتول کی بیوی اور اس کے آشنا کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا۔

جس کا ایف آئی آر نمبر 72 302 34 ttc یعنی 20 اکتوبر 2017 کو تھانہ مستوج میں درج کر لیا گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget