2 اکتوبر، 2017

ہنسنا منع نہیں: پیش خدمت ہیں تین لطیفے



فوجی کی ڈیوٹی ایک بارڈر ایریا پر تھی ۔ چھٹی ملنا مشکل تھا۔ ایک دن اسے اپنی ساس کی طرف سے خط موصول ہوا۔ 
" دیکھو بیٹا ! میری بیٹی یعنی تمھاری بیگم بہت اکیلی رہتی ہے۔ تمھاری پورے خاندان اور گھر کے کام کاج کرتی ہے۔ ایک تم ہو کہ نوکری سر پر اٹھا رکھی ہے۔ کئی کئی مہینوں تک گھر نہیں آتے۔ 

اب جلدی سے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر چھٹی لے کر گھر آؤ"

فوجی نے چٹھی پڑھی ۔ جواب لکھا اور ساس کو پارسل کردیا۔

ساس کو پارسل موصول ہوا تو اس میں ایک گرنیڈ تھا اور خط تھا۔ لکھا تھا

" آنٹی جی ۔ اگر آپ اس امرود نما چیز کی پن کھینچ لیں تو مجھے ایک ہفتہ چھٹی مل سکتی ہے۔ "

_______________________________


بیوی نے ایک دن بڑے لاڈ سے اپنے میاں سے کہا۔ 

ایک بات سنو تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو؟

انہوں نے جواب دیا۔ جو تم کہو جان من۔

بیوی نے پوچھا کیا تم میرے لیے چاند لا سکتے ہو؟

میاں خاموشی سے اٹھے اور تھوڑی دیر میں کچھ چیز چھپائے ہو ئے لوٹے اور بیوی سے کہا کہ آنکھیں بند کرو اور وہ چیز بیوی کے ہاتھ میں پکڑا کر کہا اب آنکھیں کھولو۔

بیوی کے ہاتھ میں آئینہ تھا اور اس میں اپنا چہرہ دیکھ کر بیوی کی آنکھیں بھر آئیں اور کہنے لگی۔ کیا تم مجھے چاند جیسا حسین سمجھتے ہو؟


میاں بولے:  نہیں، میں تو تمھیں یہ سمجھا رہا تھا کہ جس تھوبڑے سے تم چاند کی فرمائش کر رہی ہو کبھی آئینے میں بھی دیکھا ہے کہ نہیں

______________________________________

داماد نے اپنی ساس کے سامنے اپنی بیوی کی خامیاں گنواتے ہوئے کہا،

اماں، تمہاری بیٹی نے میری زندگی جہنم بنا رکھی ہے،
نہ تو اسے کھانا بنانا آتا ہے اور نہ ہی ڈھنگ سے کپڑے پہننا،
صفائی ستھرائی سے تو اسکی خاص دشمنی ہے،
اگر کوئی مہمان آ جائے تو اسکے سامنے بھی ایسے پھوہڑ پن کا مظاہرہ کرتی ہے کہ میں شرمندہ ہو کر رہ جاتا ہوں،

ساس نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا،

تم ٹھیک کہتے ہو بیٹا:

اگر یہ کمینی عقل مند ہوتی تو
اس کو کوئی اچھا سا رشتہ نہ مل جاتا۔ ☺


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget