26 اکتوبر، 2017

الیکشن کمیشن نے معافی نامے تسلیم کرکےعمران خان کے خلاف توہین عدالت کیسز ختم کردیئے

 

اسلام آباد (ٹائمزآف چترال ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن کو عمران خان کی لیگل ٹیم کی جانب سے معافی نامے موصول ہوگئے جس پر الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کے دو کیسز میں دستخط شدہ معافی نامے جمع کرانے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے کیسز ختم کردیے۔ 

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن کو متعصب اور اسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا الیکشن کمیشن کہنے پر توہین عدالت کے 2 مقدمات کا سامنا تھا۔

الیکشن کمیشن کی طلبی پر چیرمین تحریک انصاف کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جب کہ ان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے۔ الیکشن کمیش نے عمران خان کی جانب سے دونوں مقدمات میں دستخط شدہ معافی نامے پیش کئے جسے 5 رکنی کمیشن نے تسلیم کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف مقدمات ختم کردہئے

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے بابر اعوان کو عمران خان کے بیان کا متن پڑھنے کے لئے دیا جو وہ سماعت کے دوران پڑھنے سے گریزاں رہے۔  چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا ہم یہ الفاظ پڑھ دیں، ہمیں شرم نہیں آتی جو الفاظ ہمارے خلاف استعمال کئے گئے وہ پڑھیں۔

جس پر بابر اعوان نے کہا کہ میں آپ کو بھی وہ الفاظ پڑھنے نہیں دوں گا، اڈیالہ جیل میرا سسرال ہے، میں الفاظ نہیں پڑھتا آپ مجھے سسرال بھیج دیں۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے حکم پر اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے عمران خان کی تقریر کا متن پڑھنا شروع کردیا جس پر فریقین وکلا کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پر تنقید کا مقصد اسے قابل اعتماد بنانا تھا۔
کبھی بھی کوشش نہیں رہی کہ چیف الیکشن کمشنر یا کسی ممبر کے خلاف بات کروں۔

 الیکشن کمیشن نے عمران خان کا معافی نامہ تسلیم کرتے ہوئے ان کے خلاف توہین عدالت کے دونوں کیسز نمٹا دیے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget