28 اکتوبر، 2017

قربت بھی نہیں دل سے اُتَر بھی نہیں جاتا : احمد فراز

قربت بھی نہیں دل سے اُتَر بھی نہیں جاتا
وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا

دل کو تیری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

آنکھیں ہیں کے خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے
اور زخم جدائی ہے کے بھر بھی نہیں جاتا

وہ راحت جان ہے مگر اس در بدری میں
ایسا ہے کے اب دھیان اُدھر بھی نہیں جاتا

ہم دہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا

پاگل ہوئے جاتے ہو فراز اس سے ملے کیا
اتنی سی خوشی سے کوئی مر بھی نہیں جات

احمد فراز




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget