12 اکتوبر، 2017

فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں: کیپٹن صفدر

 

ٹیکسٹ کرٹیسی بی بی سی اردو

سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے افواجِ پاکستان میں احمدیوں کی بھرتی پر پابندی کے لیے قرارداد لانے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج سمیت کسی بھی محکمے میں اعلی عہدوں میں بیٹھے ہوئے احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں اس لیے اُنھیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے جو مریم نواز کے شوہر ہیں،اپنے خطاب میں کہا کہ احمدی ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔
اُنھوں نے اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب فزکس ڈپارٹمنٹ کا نام بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اس پر احتجاج کریں گے۔
واضح رہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبۂ طبعیات کو احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کا حکم سابق وزیراعظم نواز شریف نے دیا تھا۔ حکومت کے اس اقدام پر پاکستان میں دینی جماعتوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

اپنے خطاب میں کیپٹن(ر) صفدر نے عدلیہ میں بیٹھے لوگوں سے بھی ختم نبوت سرٹیفیکیٹ پر دستخط لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انصاف کی کرسی پر کسی بھی ایسے شخص کو نہیں بٹھانا چاہیے جس کا تعلق احمدی برادری سے ہو۔

پاکستانی آئین کے مطابق اعلی عدلیہ کے ججوں کے بارے میں پارلیمان میں بحث نہیں کی جا سکتی۔
اُنھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتیں بھی ٹکٹ دیتے ہوئے اپنے امیدواروں سے ختم نبوت کے سرٹیفکیٹ پر حلف لیں۔
احمدی برادری کے ترجمان سلیم الدین نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مذہب کی آڑھ میں ان پر الزام تراشی کر رہے ہیں جنھوں نے ملک و قوم کے لیے بےشمار قربانیاں دیں بلکہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ افتخار جنجوعہ اور اختر حسین ملک کو حکومت پاکستان کی طرف سے فوجی اعزازت دیے گئے تو ان اعزازات کو کیا حکومت پاکستان واپس لے لے گی۔

بی بی سی سی بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ کیپنٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر خود بدعنوانی کے الزامات ہیں اور چند روز کے بعد ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاست کے زیر انتظام ٹیلی ویژن پر ایسی تقاریر نشر کرنا بھی قابل افسوس ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget