23 اکتوبر، 2017

سی پیک کی وجہ سے چترال کا امن تباہ کیا جاسکتا ہے: ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

 

چترال (رپورٹ : محکم الدین) ساوتھ ایشیاء پارٹنرشپ پاکستان اور آواز ڈسٹرکٹ فورم کے اشتراک سے ایک روزہ امن سمینار جمعرات کے روز ٹاؤن ہال چترال میں منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔سمینار میں ڈسٹرکٹ خطیب چترال مولانا فضل اللہ نے اسلام اورامن کے موضوع پر ممتاز سکالر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے سی پیک سے چترال اور اس کے کلچر کو درپیش خطرات کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا۔

ڈسٹرکٹ خطیب نے کہا کہ اسلام ہے ہی امن کانام، مگر افسوس ہے ہم امن کے دعویدار ہوتے ہوئے بھی امن قائم کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام کا مزاج ہی امن کا ہے اور جو شخص مسلمان ہوتے ہوئے بھی فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے اُس کو اپنے ایمان کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے جسم سے وہ اعمال ظاہر ہوتے ہیں جو دُنیا میں فساد کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی لمحہء فکریہ ہے کہ آج نعرۂ تکبیر لگا کر لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ چترال اپنے امن کی وجہ سے مشہور ہے اور اسکی بنیادی وجہ یہاں کے علماء کی امن دوستی ہے جو علاقے کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن کو مقدم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے سُنی اور اسماعیلی سکالر اور انٹلیکچولز اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ امن سے ہی اس وادی میں زندگی کی رونقیں بحال رکھی جا سکتی ہیں۔

ممتاز سکالر ڈاکٹر عنایتاللہ فیضی نے اپنے موضوع پر اظہار کیال کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سی پیک کی وجہ سے چترال کے امن کو تباہ کیا جاسکتا ہے امریک اور بھارت ہمارے اقتصادی راہداری کو بالکل پسند نہیں کرتے اس لئے وہ ہر ممکن طریقے سے اسے ناکام بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس منصوبے بہت زیادہ خوش ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پاس ہنر مند افراد کی کمی ہے،اس لئے اس منصبوبے میں چائنا کے ہنر مند افراد کام کریں گے اور سب سے زیادہ فائدہ وہ حاصل کریں گے۔ ھہماری حکومتوں کی نا اہلی کے سبب ہمارے پاس کسی ٹیکنکل کام کیلئے ہنرمندوں کی شدید کمی ہے اب بھی اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، انہوں نے کہا کہ ہمارے سکولوں میں ٹیکنکل ایجوکیشن کا کمپوننٹ شامل تھا لیکن نا عاقبت اندیش حکمرانون اور بیوروکریسی نے وہ سسٹم ہی ختم کردیا۔ آج ہمارے معاشرے نوجوان افراد تو موجود ہیں لیکن وہ ہنر سے محروم ہیں ۔ ڈاکٹر فیضی نے کہا کہ آنے والے وقت میں ہماری نسلوں کو بھی چائنا سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جدو جہد کرنی پڑے گی جس طرح برطانیہ سے آزادی کیلئے ہمارے آباو اجداد کو قربانی دینی پڑی تھی۔ اس لئے سی پیک منصوبے سے بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سی پیک میں چترال کے معدنیات، پانی اور آراضی پر چائنا اپنی محنت اور ہنر کے بل بوتے پر قابض ہو گا اور چترال کے لوگ صرف اُن کے سہولت کار کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔اس لئے چترال کے امن کو ممکنہ خطرات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے چترال کی ثقافت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا کیونکہ یہاں چائنا کے لوگ آئیں گے تو چترال کے کلچر پر اُن کا بہت زیادہ اثر ہو گا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ چائنا کو اس منصوبے کیلئے پچاس ہزار ہنر مند افراد کی ضرورت ہے لیکن گلگت بلتستان اور چترال میں مجموعی طور پر 700افراد بھی موجود نہیں ہیں ۔ ایسے میں چترال سی پیک سے سوائے بد امنی اور غلامی کے کیا حاصل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران بہت فخر سے سی پیک کا ذکر کر رہے ہیں اُن کو اس حوالے سے عوام کے سامنے یہ بات واضح کردینی چاہیے کہ انہوں نے چائنا کے ساتھ اس حوالے سے کیا معاہدہ کیا ہے۔ سمینار سے صدر تجار یونین حبیب حسین مغل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور فساد تب ہوتی ہے۔ جب انسانی حقوق پا مال کئے جاتے ہیں ۔ چترال میں انسانی حقوق کی پامالی کسی سے ڈھکی چھُی نہیں ہے۔ چترال میں دولت اور اختیار والے لوگ یہاں کے حقوق پر قابض ہیں۔ قابل ازین صدر آواز دسٹرکٹ فورم قاضی سجاد ایڈوکیٹ نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ آواز فورم چترال میں عوام اور اداروں کے مابین روابط کرکے بحال کرکے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے اور کوششوں کے نتیجے میں اب تک کئی مسائل حل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے آواز کی سرگرمیوں سے متعلق سمینار کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ آواز خواتین میں سیاسی لیڈر شپ کو فروغ دینے اور سروس ڈیلیوری میں ایجوکیشن ، ہیلتھ وغیرہ شعبوں میں کام کر رہا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget