2 اکتوبر، 2017

یہ مرے پودے یہ مرے پنچھی یہ مرے پیارے پیارے لوگ: رئیس فروغ

 

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرادینا
جتنے بھی ہیں روپ تمھارے جیتے جی دکھلادینا

رات اور دن کے بیچ کہیں پر جاگے سوئے رستوں میں
میں تم سے اک بات کہوں گا تم بھی کچھ فرمادینا

اب کی رُت میں جب دھرتی کو برکھا کی مہکار ملے
میرے بدن کی مٹّی کو بھی رنگوں میں نہلادینا

دل دریا ہے دل ساگر ہے اس دریا اس ساگر کی
ایک ہی لہر کا آنچل تھامے ساری عمر بِتادینا

ہم بھی لے کو تیز کریں گے بوندوں کی بوچھار کے ساتھ
پہلا ساون جھولنے والو تم بھی پینگ بڑھادینا

فصل تمہاری اچھی ہوگی جاؤ ہمارے کہنے سے
اپنے گاؤں کی ہر گوری کو نئی چنریا لادینا

یہ مرے پودے یہ مرے پنچھی یہ مرے پیارے پیارے لوگ
میرے نام جو بادل آئے بستی میں برسادینا

ہجر کی آگ میں اے ری ہواؤ دو جلتے گھر اگر کہیں
تنہا تنہا جلتے ہوں تو آگ میں آگ مِلادینا

آج دھنک میں رنگ نہ ہوں گے ویسے جی بہلانے کو
شام ہوئے پر نیلے پیلے کچھ بیلون اُڑادینا

آج کی رات کوئی بیراگن کسی سے آنسو بدلے گی
بہتے دریا اُڑتے بادل جہاں بھی ہوں ٹھہرادینا

جاتے سال کی آخری شامیں بالک چوری کرتی ہیں
آنگن آنگن آگ جلانا گلی گلی پہرا دینا

اوس میں بھیگے شہر سے باہر آتے دن سے ملنا ہے
صبح تلک سنسار رہے تو ہم کو جلد جگادینا

نیم کی چھاؤں میں بیٹھنے والے سبھی کے سیوک ہوتے ہیں
کوئی ناگ بھی آنکلے تو اس کو دودھ پِلادینا

تیرے کرم سے یارب سب کو اپنی اپنی مراد ملے
جس نے ہمارا دل توڑا ہے اُس کو بھی بیٹا دینا

رئیس فروغ



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget