اکتوبر 12, 2017

پاکستانی/ چھتراری قوم کی پیاری اور نرالی ادائیں : "صداۓ کہسار" جے کے صریر

 

پاکستانی/ چھتراری قوم کی پیاری اور نرالی ادائیں : تحریر جے کے صریر

 آج کل چترال میں سیاست کار ایک دوسرے پر مالی بدعنوانیوں کا الزام لگا رہے ہیں. حیرانگی کی بات ہے کہ اس ملک میں اگر کسی پر کرپشن کا الزام لگایا جاتا ہے تو مخالف بڑی ہٹ دھرمی سے
صفائی دینا شروع ہوجاتا ہے اور ثبوت مانگے جاتے ہیں. ایسے الزامات سے کسی کو شرمندگی نہیں ہوتی, نہ ہی لوگوں کی نظر میں عزت میں کمی آجاتی ہے. چند عشروں پہلے اگر غصے اور غلطی سے بھی کسی کو چوری کا طعنہ دیا جاتا تو 'رویانتے گوؤر نو نساؤتاۓ.' مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ہݰ صفایئو سورہ 'تھُخو اسمانتو نو لاکی، لیئو زمینہ نو چاٹے' ژِبونیان کی حیران بن بویان, ثبوت کورار گوۓ؟ 


آج کل تو وسیع پیمانے پر لوٹ مار کو معاشرتی عزت مندی اور خاندانی وقار سمجھا جاتا ہے. پھر کہاں کا ثبوت, کونسی عدالت, کونسا جرم اور کیسی سزاء؟ اب اس حقیقت کو نہیں دیکھی جاتی کہ کل تک جس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی وہ آج کس طرح اور کیوںکر کروڑوں بینک بیلنس رکھتا ہے؟ یا جس کے پاس کروڑوں کے باپ دادا کی جاگیر اور سرمایہ موجود تھے وہ ارب پتی کیسے بن گئے اور بڑے بڑے ہوٹلوں سے لے کر کوٹھیوں کے مالک کیسے ہوگئے؟

ہونا یہ چاہیئے تھا کہ چوری کو اخلاقی جرم تصور کرکے برا منایا جاتا, ملزم شرمندگی سے پانی پانی ہوتا. اور جب کسی اہم شخصیت یا عوامی نمائندہ پر اختیارات کے غلط استعمال یا حق سے زیادہ دولت بٹورنے کا الزام لگایا جاتا تو نہ صرف لوگ مذمت کرتے بلکہ حکومت وقت اور عدالتوں کی جانب سے غیرجانبدارانہ اور کھری قانونی تحقیقات ہوتیں. مگر بڑی چوری کا صرف یہ فائدہ نہیں کہ حکومتی اداروں کو رشوت دے کر چپ کراۓ جائیں. بلکہ اس دیس میں عام لوگ بھی چوری کو اپنے حاکموں, آقاؤں اور "باعزت" لوگوں کا حق گردان کر بدعنوائی کی پزیرائی کرتے ہیں. یوں چور پہلے کے مقابلے میں اور بھی بااثر ہوجاتا, سینہ تان کر اور سر اونچا کرکے نکلتا اور اگلی بار زیادہ بڑے پیمانے پر اور زیادہ ہٹ دھرمی کے ساتھ کرپشن کی نیت سے میدان کس لیتا ہے.

تبھی کہتا ہوں کہ اس ملک و معاشرے کا اصل مرض اور مرض کی جڑ اخلاقی دیوالیہ پن ہے. یہاں اقدار کی پوری لغت ہی بدل گئی ہے. اب بےغیرتی کو برداشت کا نام دیا جاتا ہے, حق تلفی کو بااختیار ہونے کی علامت گردانی جاتی ہے, ظلم و جور پر خاموشی کو سمجھوتہ اور معاملہ فہمی کہا جاتا ہے, جھوٹ کو سیاست اور سمجھداری کہی جاتی ہے, اور مالی بےضابطگیوں کو بڑوں کے چونچلے تصور کی جاتی ہیں. کل تک جن چیزوں کا سوچا بھی جانا غلط تھا آج دھڑلے سے, اعتمادو یقین کے ساتھ اور کھلے عام انجام تک پہنچائی جاتی ہیں.

مگر ٹھہریئے کہ جس طرح پہاڑ کے دامن سے پتھر گر کر چوٹی کی طرف نہیں سرک سکتا ٹھیک اسی طرح اخلاقیات کا جنازہ نکال کر, اچھائی برائی میں تمیز کیے بغیر، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے کے علاوہ, حق تلفی کو روکے بغیر, مختصر یہ کہ منفی رویوں کی حوصلہ شکنی اور انسانیت کی اعلیٰ و ارفع قدروں کی حصلہ افزائی کیے بغیر کوئی بھی قوم آگے نہیں جاسکتی. ہوسکتا ہے کہ چند بدعنوان عناصر پھلتے پھولتے نظر آئیں. مگر بیحثیت مجموعی معاشرہ صحیح معنوں میں کبھی ترقی نہیں کرسکتا, پتھر کبھی بھی الٹا چل کر پہاڑ کی چوٹی تک سرکنے کی امید نہیں کرسکتا.


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget