30 اکتوبر، 2017

کپتان کی مجلس مشاورت : سہیل وڑائچ (صحافی سہیل وڑائچ کپتان کے مفاد پرست مشیروں کی نشاندہی کرتے ہوئے)

کپتان: ملکی صورتحال گمبھیر ہوتی جارہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی ایک ڈمی اور کمزوروزیراعظم ہے۔ ہم نے عوام کی مدد سے نواز شریف کوکرپشن الزامات پر نکال باہر کیاہے۔ عوام کی واضح اکثریت ہمارے ساتھ ہے لیکن اقتدار ہمیں دینے کی بجائے تاخیر کی جارہی ہے۔ کبھی حلقہ بندیوں کے نام پر اور کبھی ٹرم پوری کرنے کا بہانہ کرکے قوم کا قیمتی وقت ضائع کیاجارہا ہے۔ آج مشورہ یہ کرنا ہے کہ کس طرح فوری انتخابات کروا کر ہم پاپولر عوامی حکومت بنا سکتے ہیں؟

پہلا مشیر (قریشی ملتانوی)انتہائی نرم اور ملائم لہجے میں:میری گزارش ہے کہ مکرمی و محترمی کپتان صاحب نے جو کہا ہے اس کو پورا کرنے کےلئے سنجیدہ تجاویز دیں۔ قومی مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جلد از جلد انتخابات ہوں۔ (کپتان کی طرف دیکھ کر اجازت لیتے ہوئے) آپ سب کو یاد ہوگا کہ میں نے تو بطور وزیر خارجہ اس وقت استعفیٰ دیدیا تھا جب آج کل کی طرح امریکی دبائو پر ریمنڈڈیوس کورہا کرنے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ تالیوں کے شور میں ایک زوردار آواز آئی ’’ہمیں علم ہے آپ نے کس کے کہنے پر استعفیٰ دیا تھا۔‘‘ لوگوں نے پکڑ کر بولنے والےشخص کو بٹھا دیا تو مشاورت دوبارہ شروع ہوئی۔ 

پہلا مشیر (قریشی ملتانوی) میں ضمیر کی آواز پر مستعفی ہوا تھا۔ بہرحال ہمیں سوچنا تو یہ ہوگا کہ کیا طریق کار اختیار کریں کہ فوراً الیکشن ہو جائیں۔

دوسرا مشیر (بنکر نعیم انصافی) میں توکپتان کے ساتھ پہلے دن سے ہوں۔ ہمیں جلد انتخابات کی طرف جانےکی ضرورت ہے۔ یہ عائشہ گلالئی کا مقدمہ ہو یا سپریم کورٹ میں اثاثوں کے مقدمات، ان کا واحد مقصد ہمارے اقتدار کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔ ہماری الیکشن کے لئے تیاری مکمل ہے۔ اس بارہم کلین سویپ کریں گے۔

تیسرا مشیر (شفقت گجراتی) آئیڈلزم بہت اچھی چیز ہے مگر حقائق کو بھی مدنظر رکھیںگے۔ کے پی کی حکومت ہمارا مستقبل کا ماڈل ہے۔ اس کے منصوبے ابھی زیرتکمیل ہیں۔ ابھی انتخابات ہوگئے تو یہ منصوبے ادھورے رہ جائیں گے۔

چوتھا مشیر (فواد جہلمی) بات کاٹتے ہوئے۔ خیبرپختونخوا کے ضمنی الیکشن این اے 4کے نتائج سے ثابت ہو گیا ہے کہ کے پی میں لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ کے پی کے ترقیاتی منصوبوں کےلئے پورے پاکستان کے انتخابات میں مزید تاخیر نقصان دہ ہوگی۔ ن لیگ کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے اراکین اسمبلی کو مزید ترقیاتی فنڈز دے اور ان کا حلقہ ٔ انتخاب مزید مضبوط ہو۔ اس وقت تحریک انصاف کی شفاف ہوا زورسے چل رہی ہے اس لئے انتخابات فوراً کروانے کی ضرورت ہے۔ 

پانچواں مشیر (ترین وہاڑوی) یہ سب باتیں ٹھیک ہیں مگر اصل بات تو یہ ہے کہ حکومت کوکیسے مجبور کیاجائے کہ وہ جلد از جلد انتخابات کروائے۔ انتخابات کا اعلان ہوگا تو ن لیگ کے اراکین اسمبلی بھاگ بھاگ کر ہمارے پاس آئیں گے مگر جب تک انتخابات کااعلان نہیں ہوگا یہ حکومت کے اندر بیٹھے ترقیاتی فنڈز کھاتے رہیںگے۔ دوسری طرف اگر ہم کے پی حکومت توڑ بھی دیں تو اس بات کی کیا ضمانت کہ وفاق اور باقی صوبے بھی ایسا ہی کریںگے۔ ہم جب تک ان کو مجبور نہیں کریں گے یہ ہمارا راستہ خالی نہیں کریں گے۔

(اچانک عون جیون ہانوی نے اعلان کیا کہ کپتان کی گرم کافی آگئی ہے۔ فواد جہلمی نے مذاقاً آواز لگا دی صرف ایک کپ کافی کیوں؟ میرے لئے بھی منگوا دیں۔ (قہقہے) عون جیون ہانوی نے کھڑے ہو کر کہا کہ اس مسئلہ کا حل بڑا سادہ ہے کہ ایک اور دھرنادیا جائے۔ انتخابات سے پہلے آخری دھرنا۔ یہی تمام مسائل کا حل ہے۔

کپتان (گرم کافی کی چسکی لیتے ہوئے) کم ٹو دی پوائنٹ۔ فرض کریں ہم دھرنا دیں تو اس سے کیانتائج نکلیں گے اور ہم کتنے دنوں میں انہیں انتخابات کے لئے مجبورکردیں گے۔ (کافی دیرسے خاموش بیٹھے علیم خان ککے زئی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کھڑا کیا اور یوں بولے)

چھٹا مشیر (علیم خان ککے زئی) ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پوری توجہ انتخابات کی تیاری پر مرکوز کریں۔ ہمیں اپنے امیدواروں اور کارکنوں دونوں طبقات کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ مجھے تویہ حکومت اپنے بوجھ تلے ہی گرتی نظر آ رہی ہے۔ اس کے خلاف دھرنے کی ضرورت نظر نہیں آتی۔ ہمیں ایسی تیاری کرنی چاہئے کہ الیکشن ڈے اور نتائج وصول کرنے تک ہم نے کیسے دھاندلی کو روکنا ہے وگرنہ ن لیگ کا تجربہ ہم سے زیادہ ہے۔ یہ نہ ہو کہ ہم پھر سستی دکھائیں اور وہ انتخابات چرا کر لے جائیں۔ 

پانچواں مشیر (ترین وہاڑوی) علیم خان نے جو کہا ہے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ جذباتی ہوئے بغیر انتخابات کی تیاری پر توجہ دینی چاہئے۔ جلد از جلد انتخابات کی بات کرتے رہنا چاہئے مگر ساتھ ہی ساتھ ہمارا اصل فوکس انتخابات کی تیاری پر رہنا چاہئے۔ فی الحال دھرنے پر وسائل ضائع کرنے کی بجائے ہر ڈویژن میں ٹکٹ دینے کے حوالے سے منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ونگز اس طرح بنانے چاہئیں کہ اس حلقے کی ساری برادریوں کی نمائندگی ہو۔ ہم اس وقت بہت پاپولر ہیں اگر ہم حکومت میں نہ آسکے تو اس کی وجہ ہماری ناقص منصوبہ بندی ہوگی۔

چوتھا مشیر (فواد جہلمی) ترین وہاڑوی صاحب بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ان کی اسی عقل مندی کی وجہ سے ن لیگی ان کےاورکپتان کے خلاف عدالتوں میں ٹکریں مار رہے ہیں مگر نہ ترین وہاڑوی صاحب نے کچھ غلط کیا ہے اور نہ کپتان صاحب نے۔ ہم اس معاملے سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ ہمیں آئندہ حکومت کی تیاری کے لئے مختلف محکموں پر پیپرز تیار کرنے چاہئیں۔ انرجی پالیسی کیا ہوگی؟ خارجہ پالیسی تو خیر یہی رہے گی لیکن معاشی پالیسی ناکام جارہی ہے، اسے بدلنا ہے۔ اسی طرح تعلیمی پالیسی پر بھی پوری ورکنگ کرنی چاہئے۔

کپتان:(دونوںہاتھ کھڑے کرکے بات شروع کرتے ہوئے) دیکھو جہلمی! آئندہ حکومت کی تیاری مکمل ہے تم فکر نہ کرو۔ میں نے دنیا بھر میں پروفیشنل پاکستانیوں کی فہرست بنائی ہوئی ہے۔ رائٹ مین فار دی رائٹ جاب کے تحت ان سب کو لا کر بٹھا دیں گے تو پورا ملک تین ماہ میں سیدھی پٹری پر چڑھ جائے گا۔ باقی رہی بات کہ اب کیا کریں تو فی الحال الیکشن اسٹریٹجی، امیدواروں کا انتخاب اور ونگز پر پوری توجہ دی جائے۔ دھرنا ہمارا موثرترین ہتھیارہے۔ ہماری تیاری مکمل ہو جائےتو ہم دھرنا بھی دے دیں گے لیکن فی الحال یہ نہیں کرتے اس کا فیصلہ آئندہ کی میٹنگ میں کریں گے۔ الیکشن کمیشن والا معاملہ تو خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔ انشاء اللہ سپریم کورٹ والا بھی حل ہوجائے گا تو پھر میں خود دورے پر نکلوں گا اور چند دنوں میں انتخابات کی فضا بنادوں گا۔ (تالیاں۔ اجلاس ختم ہوتا ہے)

اصل اشاعت ڈیلی جنگ 28 اکتوبر 2017

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget