اکتوبر 4, 2017

وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم ’وائی فائی‘ اب ماضی کا حصہ بننے والا ہے، چینی سائنسدانوں نے اب ایجاد کرلی ’لی فائی‘

 

بیجنگ (ٹائمز آف چترال ٹیکنالوجی ڈیسک ابوالحسنین) سن 98 میں متعارف کی جانے والی والی ٹیکناجی وائی فائی اب جلد ماضی کا حصہ بن جائے گی۔ جسے وائی فائی الائنس نے تخلیق کیا تھا۔ وائی فائی ایک وائرلیس ڈیٹا ٹرانسفر اور کنکشن سسٹم ہے۔ جسے ہم لیپ ٹاپس، موبائل فونز، ٹیب لیٹس، جدیدی کیمروں وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں۔ 

اب چینی سائنسدان فل کلر ایمسیو کاربن ڈاٹس F-CSs بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں جس کے بعد یہ دنیا کی تیز ترین وائرلیس کمیونیکیشن چینل تخلیق کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور آئندہ سالوں میں امید ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی بنانے میں کامیاب ہونگے۔  ممکنہ ٹیکنالوجی کا نام لائیٹ فڈلیٹی جسے LiFi کے نام سے جانا جائے گا، یہ ٹیکنالوجی ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کے لئے ایل ای ڈی بلبس سے نظر آنے والی روشنی استعمال کریگی جو موجودہ وائی فائی سے کئی گنا تیز ہوگا۔ 

اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے چینی محقق کیو سونگنان کا کہنا ہے ’’ اس ٹیکنالوجی پر دنیا بھر میں کئی سائنسدان کام کر رہے ہیں لیکن ہم نے سب سے پہلے کم قیمت میٹیریل جیسا کہ یوریا سے آسان پروسیسنگ کے ساتھ  تیار کرنے والے پہلے سائنسدان ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سابقہ مطالعات میں کاربن ڈاٹس روشنی، جیسا کہ نیلی اور سبز کے اخراج کے لئے محدود تھے۔ نئے نانو میٹیریل  جسے ہماری ٹیم نے تیار کیا ہے تمام روشنیوں کو انسانی آنکھ کے لئے دیکھنے کے قابل بناتا ہے یہ ایک کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لی فائی اب آئندہ چھ سالوں میں مارکیٹ میں آجائے گی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget