9 اکتوبر، 2017

وادی کریم آباد کے ٹماٹر ملک بھر میں جاتے ہیں، محنتی گھریلو خواتین ٹماٹر فروخت کرکے بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں: رپورٹ گل حماد فاروقی

 


چترال(گل حماد فاروقی) چترال کو بجا طور پر عورت آباد کا نام دیا گیا ہے۔ جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے گھر کا چولہا جلاتے رہتے ہیں۔ چترال کی خوبصورت وادی کریم آباد کے درونیل گاؤں میں کاشتکار غیر موسمی ٹماٹر کاشت کرتے ہیں جو بیس اگست سے لیکر دسمبر کے حاتمے تک ٹماٹر کا فصل دیتا ہے۔



اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ امسال جب پورے ملک میں ٹماٹر کی قلعت پیدا ہوئی مگر انہوں نے اپنے کھیتوں سے ٹماٹر کو کراچی تک پہنچایا۔ تاہم ان کو ایک شکایت ضرور ہے کہ وہ آٹھ کلومیٹر دور سے ان کھیتوں کیلئے پانی لانے کیلئے ندی خود بناتے ہیں۔ سماجی کارکن اسرار الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے کے لوگوں میں شعور پیدا کیا کہ وہ ایسے فصل کاشت کرے جس سے فوری طور پر ان کو مالی فائدہ ہو تو ان لوگوں نے ٹماٹر کاشت کرنا شروع کیا جس کھیت سے گندم کی فصل بونے سے دس ہزار روپے کا آمدنی ہوتا تھا اب اسی کھیت سے پانچ لاکھ روپے کا آمدنی ہوتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس پورے وادی میں حکومت نام کا کوئی چیز نہیں ہے یہاں محکمہ آبپاشی کی کوئی نہر نہیں ہے محکمہ ذراعت کو تو لوگ جانتے بھی نہیں ہیں نہ ان کا کوئی کردار ہے۔ اسی طرح سڑکوں کی حالت اتنی حراب ہے کہ گاڑی میں ٹماٹر لے جاتے وقت توازن برقرار رکھنے کیلئے گاڑی کے ایک کنارے سے لٹکنا پڑتا ہے۔

گھریلوں خاتون رحیمہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ ان ٹماٹروں کو بیچ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس علاقے کیلئے پانی کا بندوبست ہوا تو اس وادی سے دس گنا زیادہ ٹماٹر کا فصل اگ سکتا ہے۔

صابر خان کا کہنا ہے کہ ہماری زمین نہایت ذرحیز ہے مگر پانی کی قلعت کی وجہ سے ہم صرف بیس فیصد زمین کاشت کرتے ہیں اسی فی صد زمین بنجر پڑی ہے۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری زمین ویران پڑی ہیں۔

شکیل بی بی کا کہنا ہے کہ اس وادی میں نہ صرف آبپاشی کی پانی کی قلعت ہے بلکہ پینے کیلئے بھی پانی دستیاب نہیں ہے ہم بہت دور سے سروں پر مٹکوں میں پینے کا پانی لاتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کیلئے پانی کا بندوبست کی جائے ۔

مدیحہ سلیم کراچی کی باسی ہے جس کی شادی درونیل کریم آباد میں ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہاں پانی نہ ہونے سے بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ تین مہینے پہلے ہم مرد و خواتین مل کر کھدائی کرتے ہیں اور پانی کا نالہ خود بناتے ہیں مگر پھر بھی پانی بہت کم آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی حالت نہایت حراب ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقے سے ٹماٹر، مٹر، آلو اور محتلف پھل دوسرے علاقوں کو نہیں فراہم کی جاسکتی کیونکہ سڑکوں پر حادثات کی وجہ سے گاڑیاں بہت کم چلتی ہیں۔

علاقے کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس وادی میں سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان کو پینے اور آبپاشی کیلئے بھی پانی فراہم کی جائے تاکہ اس علاقے سے ملک بھر کو ٹماٹر ، آلو اور مٹر فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس علاقے کیلئے پانی کا انتظام کیا گیا تو یہاں سے دس گنا زیادہ فصل اگا یا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وادی سے سال میں دس کروڑ روپے کا ٹماٹر، اور ایک ارب روپے کا آلو باہر بھیجا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget