11 اکتوبر، 2017

ہم کیوں نہ تمہاری تعریف کریں: ہمارے پیارے ایم این اے، ایم پی ایز صاحبان و صاحبات! سوال ایک بیت الخلاء کا ہے

 

تحریر ابولحسنین

چترال جہاں دیگر امور میں مسائلستان ہے وہا ں ایک اہم مسئلہ چترال  کے اڈے ہیں۔   جہاں بسوں، فلائنگ کوچز، اور دیگر گاڑیوں کے لئے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ، اڈے میں آنے والے مسافروں کو دیگر گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔   موزوں بیٹھک نہ ہونے کی وجہ سے مسافر ادھر ادھر کھڑے  گاڑیوں کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔   اڈا  مالکان جہاں بھاری فیسز گاڑی والوں سے اور گاڑی والے مسافروں سے بٹورتے ہیں وہاں اپنی ذمہ داری کا بالکل احساس نہیں کررہے ۔  دھول چاٹ رہے مسافر  سوالیہ نظروں سے رہنماؤں کے جاگنے کے منتظر ہیں۔



چترال اڈے میں سب سے بڑا مسئلہ  بیت الخلا کا ہے، وہاں پر نہ خواتین کے لئے موجود ہے اور نہ ہی مرودوں کے لئے۔ تھکے ہارے مسافر جب دھول مٹی میں مَلے پشاور ، دیر، تیمر گرہ ، دروش اور چترال کے دور دراز علاقوں سے اڈہ پہنچنے ہیں، اور پھر وہاں سے ایک لمبے سفر کے لئے روانہ ہورہے ہوتے ہیں۔  نہ وہاں ہاتھ منہ دھونے   کے لئے پانی  دستیاب ہوتا ہے اور نہ واش روم۔ بیت الخلاء جوکہ انسانی زندگی کی ایک اہم ترین ضرورت ہے ، ان اڈوں پر نہیں ملے گا۔  اب بندے کو رفع حاجت کے لئے جانا ہو تو بندہ جائے کہاں؟  

سابق ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ صاحب جہاں ہر جگہ چھاپے مارتے اور پہنچ جاتے تھے لیکن ناک کے نیچے نہ دیکھ پائے۔   شہاب الدین یوسفزئی بھی آئے اور چلے گئے۔  ہم یہاں جناب ارشاد سد ھیر صاحب کی نالج میں لانا چاہیں گے  کہ جناب عالی ! بظاہر چھوٹا نظر آنے والا  ، اس بڑے مسئلے کی طرف توجہ فرمائیں اور  اڈوں کے اندر یا تو مالکان سے یا پھر حکومتی خرچے سے بیت الخلاء تعمیر کرواکر مشکور و ممنوں فرمائیں۔ 

چترال کی نمائندگی کرنے میں ناکام ایم این ایز اور اپم پی ایز صاحبان اور صاحبات  سے بھی عرض ِ عاجزانہ ہے کہ جہاں اپنے صوابدیدی  فنڈزسے  دیگر خوشامدی کام کرواتے ہیں وہاں ایک عوامی کام بھی سہی۔   ایم این اے صاحب آپ کا تو گھر ہے، پاس ہی آپ کا عالیشان ہوٹل ہے  کبھی   حضرت عمر ؓ  کی پیروی کرتے ہوئے اپنے رعایا میں تشریف لے جایا کیجئے اور ان کے مسائل سنا کیجئے ۔ 

حضرت عمر ؓ فرماتے تھے
 ’’ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ ) سے اس بارے میں پوچھ ہو گی۔‘‘   خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل پر حکومت کرتے تھے اور اپنی رعایا کا اتنا خیال رکھتے تھے۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جاتے اور  دیکھتے کہ کوئی رعایا تکلیف میں تو نہیں۔  


اور آپ لوگ…. ذرا سوچیں


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget