اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

17 اکتوبر، 2017

ہمیں اگر ایک دن بھی حکومت ملی تو سودی نظام کا خاتمہ اور یکسان نظام تعلیم رائج کردینگے: سراج الحق

مانسہرہ (ویب ڈیسک) مانسہرہ میں جماعت اسلامی کے تحت منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ وہ ملک میں خلافت کا نظام دیکھناچاہتے ہیں، عدالتوں میں قرآن و سنت کا نظام ہونا چاہئے، عدالتوں میں رشوت وکرپشن کی وجہ سے انصاف ناپید ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سودی نظام طبقاتی نظام ہے، ایک دن بھی حکومت ملی تو سودی نظام ختم کردیں گے۔


سراج الحق نے مزید کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان نے ہر بار ملک سے بے وفائی کی ہے، سپریم کورٹ سے پاناما کے دیگر 434 لوگوں کا بھی جلد احتساب چاہتے ہیں۔  70 سال بعد بھی ملک میں ایک نظام تعلیم نہیں، حکومت ملی تو ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے، تعلیمی نظام نے قوم کو تقسیم کیا ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ ہمارے ملک کو سب سے بڑا خطرہ ہمارے اپنے حکمران ہیں، حکومت نے ختم نبوت پر بھی شب خون مارنے کی گھٹیا کوشش کی ہے۔ ختم نبوت پر شب خون مارنے کی گھٹیا سازش بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر کی گئی ہے،عقیدہ ختم نبوت کو چھیڑنے والوں کو بے نقاب کیا جائے، رانا ثناء اللہ کو وزارت سے فارغ کیا جائے۔  نواز شریف ڈاکٹر عافیہ سے متعلق وعدہ پورا کریں، یہ دختر فروش برادر فروش سب کچھ ہیں، امریکامیں ہماری بے عزتی ان ظالم حکمرانوں کی وجہ سے ہو رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب امریکی گھوڑے ہیں، ایک بدنام ہوتا تو دوسرا آگے لایا جاتا ہے، ان کے پیٹوں سے غریب ہم وطنوں کا ایک ایک پیسہ نکالنا چاہتا ہوں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں