نومبر 29, 2017

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ نے صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ آگہی مہم آغاز کردیا


اسلام آباد : پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے ترقیاتی شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ صنفی مساوات کو فروغ دینے کی غرض سے لڑکیوں و خواتین پر تشدد کے خلاف 16 روزہ بین الاقوامی خصوصی مہم کا انعقاد کررہا ہے ۔ اس مہم کا آغاز 25 نومبر کو خواتین پر تشدد کے خاتمہ کے عالمی دن پر ہوا جبکہ 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اس مہم کا اختتام ہوگا۔ اس بین الاقوامی مہم کا آغاز سال 1991 میں سینٹر فار ویمن گلوبل لیڈرشپ کے تعاون سے پہلی بار ویمن گلوبل لیڈرشپ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیا گیا۔ 

 رواں سال 16 روزہ آگہی مہم کو منعقد کرنے کے لئے پی پی اے ایف ملازمین اور شراکتی تنظیموں میں خواتین کی سیاسی، سماجی اور معاشی بااختیاری کی اہمیت پر مختلف پروگرامز منعقد کرے گا۔ اس ضمن میں آگہی مواد بشمول پوسٹرز اور سوشل میڈیا پیغامات کو شراکتی تنظیموں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لئے استعمال کیا جائے گا تاکہ ان علاقوں میں جہاں مختلف پروجیکٹس پر کام ہورہا ہے وہاں پر مقامی اداروں کے ساتھ مختلف سرگرمیاں منعقد کرکے صنفی مساوات کو فروغ دیا جائے۔ 

پی پی اے ایف نے ایک اور سرگرمی میں 'آپ کے نزدیک صنفی مساوات کی اہمیت' کے عنوان سے فوٹو اور ویڈیو مقابلے کا آغاز کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف 5 کی روشنی میں اس مقابلے میں پی پی اے ایف کے عملہ اور اسکی شراکتی تنظیموں کے ساتھ پی پی اے ایف کے تعاون سے چلنے والے مقامی اداروں کے اراکین بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اختتامی تقریب میں سول سوسائٹی کی نمایاں شخصیات اور ماہرین تعلیم کو بھی اپنے تجربات اور خیالات کے اظہار کے لئے مدعو کیا جائے گا۔ 


پی پی اے ایف ترقیاتی مرحلے کے دوران فعال شراکت دار کے طور پر خواتین کی بااختیاری کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اپنی شراکتی تنظیموں کے ذریعے پاکستان بھر کے 130 اضلاع میں خواتین کی مساوی شمولیت کے لئے کام کررہا ہے۔ جون 2017تک پی پی اے ایف نے علاقائی تنظیموں کے ذریعے تقریبا 22 لاکھ افراد کے ساتھ تعاون کیا جن میں 62 فیصد خواتین ہیں۔ ان میں 3 لاکھ سے زائد افراد وزیراعظم کی سود سے پاک قرضوں کی اسکیم سے مستفید ہو رہے ہیں اور ان میں 63 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔ دوسری جانب پی پی اے ایف نے 84 لاکھ افراد کو چھوٹے قرضے فراہم کئے جن میں خواتین کی شرح 60 فیصد ہے۔ 

پی پی اے ایف کی جانب سے پانی اور انفراسٹرکچر کے شعبے سے ایک کروڑ 62 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچا ہے جس میں 50 فیصد سے زائد خواتین ہیں۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ سے زائد افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے اور ہنرمندی کی تربیت فراہم کی گئیں جن میں 46 فیصد خواتین ہیں۔ پی پی اے ایف کے پروجیکٹس والے علاقوں میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں 2 لاکھ سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں جن میں 44 فیصد لڑکیاں ہیں۔ ان تمام ترقیاتی اقدامات میں خواتین کی تقریبا نصف نمائندگی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے سماجی و معاشی مواقع دستیاب ہوں۔ 

پی پی اے ایف نے پنجاب کے ضلع راجن پور کی تین یونین کونسلوں میں حال ہی میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے اشتراک سے 'انصاف تک رسائی' کا پروجیکٹ مکمل کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد یہ تھا کہ علاقے کے اہم افراد اور مقامی اداروں کی شمولیت سے باقاعدہ لیگل سسٹم کے ذریعے لوگوں کی انصاف تک رسائی سے متعلق آگہی میں اضافہ کیا جائے۔ علاقے کے افراد ،جن میں 40 فیصد خواتین ہیں ،کو برٹش کونسل اور جسٹس نیٹ ورک کی جانب سے قانونی رہنمائی و تکنیکی تربیت فراہم کی گئی۔ 

اپنے تمام پروگرامز اور امدادی کاموں میں خواتین کی مساوی شمولیت کو یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ پی پی اے ایف نے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں سال 2016 کے دوران صوبائی سطح پر مساوات اور شمولیت کے عنوان سے ورکشاپس منعقد کی تاکہ صوبائی حکومتوں، شراکتی تنظیموں اور سماجی منتظمین کے درمیان بات چیت اور راستہ نکالا جائے کہ کس طرح پائیدار ترقی کے ہدف 5 (صنفی مساوات) کے حصول کے لئے اشتراک کیا جائے۔ پی پی اے ایف نے پنجاب کے تین اضلاع میں صنفی بنیادوں پر تشدد کے خاتمے کے لئے چھ ماہ کے آزمائشی پروجیکٹ کے طور پر 'روشن راہیں' کے عنوان سے ریڈیو پروگرام بھی تیار کئے ہیں ۔اس پروجیکٹ کے دوران مردوں میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کا کردار سمجھایا گیا اور خواتین کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ پروجیکٹ میں شامل سامعین کے مختلف کلبز کے ذریعے اپنے تجربات کے بارے میں اظہار خیال کریں۔ 

پی پی اے ایف اپنے پروگرامز اور آپریشنز میں خواتین کی بہتر نمائندگی اور بااختیاری لانے کے لئے پرعزم ہے۔ پی پی اے ایف اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ملک میں صنفی خلاءکو صرف شمولیت کے شعوری اختیار کے ساتھ اسکی کی شراکتی تنظیموں اور کمیونٹیز کے ذریعے امدادی کاموں میں خواتین کی فعال شرکت اور قیادت کے ساتھ ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget