اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

16 نومبر، 2017

ہنسننا بھی ضروری ہے: 2 مزیدار #لطیفے

ایک دفعہ ایک شیر اور بندر کے درمیان دوستی ہوئی۔ 
ایک دن شیر نے مذاق میں بندر کو کہا 
’’چلو ایک دوسرے کو تھپڑ مارتے ہیں‘‘۔ 
بندر نے جواب دیا 
’’آقا پہلے میں آپ کو ماروں گا، کیونکہ آپ کے تھپڑ سے
 تو میں مرجاؤں گا‘‘۔
یہ کہتے ہوئے بندر نے شیر کو تھپڑ مارا اور
 بھاگ گیا اور ایک دفتر میں گھس کر کپڑے پہن کر
 اخبار ہاتھ میں لے کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ 

جب شیر آیا تو پوچھا ’’بھائی آپ نے ادھر سے کسی بندر
 کو تو گزرتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘۔
بندر نے جواب دیا 
’’ہاں دیکھا ہے جس نے آپ کو تھپڑ مارا تھا‘‘۔
شیر (حیران ہوکر) ’’تم کو کیسے پتہ چلا؟‘‘
بندر: ’’سر اخبار میں یہ خبر چھپی ہے‘‘۔

----------------------------------------

ایک آدمی ہوٹل میں داخل ہوا اور ویٹر 
کو پکارتے ہوئے تیزی سے بولا:
’’اس سے پہلے کہ جھگڑا شروع ہو مجھے
 جوس کا ایک گلاس پلادو‘‘۔

ویٹر جلدی سے اس کے لئے جوس لے آیا۔
آدمی نے اسے حلق میں اُنڈیلتے ہوئے کہا

’’جلدی کرو جھگڑا ہونے والا ہے ایک جوس اور لاؤ‘‘۔
اسی طرح جھگڑے کا ذکر کرکرکے وہ چھ گلاس پی گیا۔

ساتویں گلاس پر ویٹر نے پوچھا 
’’اب تک آپ اتنے گلاس جوس پی چکے ہیں محترم 

اس کی قیمت کون ادا کرے گا‘‘۔
’’آہ‘‘۔ آدمی نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔

’’آخر وہی ہوا نہ جس کا مجھے ڈر تھا۔ 
جھگڑے کی ابتدا ہوہی گئی‘‘۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں