نومبر 28, 2017

چترال میں محکمہ واپڈا درختوں کا دشمن بن گیا، 3 ہزار 600 درخت کاٹے جائیں گے

 

چترال (رپورٹ گل حماد فاروقی)  خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں واپڈا ٹرانسمیشن لائن کیلئے 3 ہزار سے زیادہ پھلدار درختوں کو کاٹا جا رہا ہے ،ان درختوں میں اخروٹ، ناشپاتی اور شاہ بلوط کے نایاب درخت بھی شامل ہیں۔

ٹی این این سے بات چیت کرتے ہوئے نصرت آزاد، سہراب خان، انجینئر فخر اعظم اور دیگرنے بتایا کہ واپڈا کی مین ٹرانسمیشن لائن کے نتیجہ میں 3 خاندانوں کے ذاتی جنگلات اور زرعی زمینیں بری طرح متاثر ہورہی ہیں اس ضمن میں انہوں عدالت سے بھی رجوع کیا تھا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا  مگر اس پر نہ تو ضلعی انتظامیہ عمل درآمد کررہی ہے اور نہ ہی واپڈا حکام۔



انہوں نے کہا کہ سروے ٹیم صرف ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنجر زمین، دریا کا کنارا اور پہاڑی علاقوں کو چھوڑ کر جان بوجھ کر زرعی زمین کے اوپر سے لائن گزار رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس متبادل کے طور پر بنجر زمین بھی پڑی ہے اور دریا کے کنارے کافی غیر آباد اراضی بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعوے کررہی ہیں کہ وہ صوبے میں اربوں کی تعداد میں نئے پودے لگار ہے ہیں جبکہ دوسری طرف بروز اور چترال کے دیگر مقامات پر تیار درخت کاٹے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف بروز ہی میں 3600 درخت کاٹے جارہے ہیں جن میں شاہ بلوط جیسے سدا بہار نایاب قسم کے درختوں کے علاوہ اخروٹ، ناشپاتی ، سیب اور دیگر پھلدار درخت بھی شامل ہیں۔

اس سلسلے میں جب چیف کنزرویٹر محکمہ جنگلات مشتاق احمد اور ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ صوبائی حکومت نے اخروٹ کے درخت کاٹنے پر پابندی لگائی ہے جبکہ کوئی عام شہری بھی اپنا ذاتی درخت نہیں کاٹ سکتا جس کےلئے اسے  پہلے ڈائریکٹر ذراعت کو تحریری درخواست دینا پڑے گا اس کے بعد ڈویژنل فارسٹ آفیسر اس کا خود ہی معائنہ کرکے تصدیق کرے گا کہ واقعی یہ درخت بوسیدہ حالت میں ہے یا خراب ہے تو پھر این او سی جاری کیا جائے گا جس کے بعد اس درخت کو کاٹا جاسکتا ہے۔

سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر محمد یوسف نے ٹی این این کو بتایا کہ بطور فارسٹ آفیسر ان کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ یہاں کافی پھلدار درخت کاٹے جارہے ہیں مگر چونکہ یہ واپڈا کی لائن کیلئے کاٹے جارہے ہیں جس میں محکمہ جنگلات کچھ بھی نہیں کرسکتا۔

گولین گول پراجیکٹ واپڈا کے ریذیڈنٹ انجینئر سردار بہادر سے بھی اس سلسلے میں واپڈا کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے اس سلسلے میں  موقف دینے سے معذرت کرلی۔

اس حوالے سے قانونی ماہرین سے بھی رائے لی گئی جن کا کہنا تھا کہ واپڈا ایکٹ کے تحت عام لوگوں کا کم سے کم نقصان ہونا چاہیئے اور ان کو معاوضہ بھی دینا چاہیئے۔

متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ہزاروں پھلدار درختوں کی کٹائی کا از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور وزیر اعظم پاکستان اور واپڈا کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے کہ ایک ہی شخص کنسلٹنٹ اور ٹھیکیدار کیسے ہو سکتا ہے اور ان کو فائدہ پہنچانے کیلئے لوگوں کے کروڑوں روپے مالیت کی زرعی زمین اور تیار درختوں کو کاٹا جارہا ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے اوپر ہونے والے اس ظلم کو نہیں روکا گیا تو وہ راست قدم اٹھانے اور پر تشدد احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget