14 نومبر، 2017

گولین گول بجلی گھر سے چترال کو ایک روپے فی یونٹ کے حساب سے 30 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے۔ سی سی ڈی این کا مطالبہ

 



چترال (رپورٹ :کریم اللہ) چترال کمیونٹی دیویلپمنٹ نیٹ ورک یعنی سی سی ڈی این کے چیرمین سرتاج احمد خان اورجملہ اراکین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے اور دروش کو تحصیل کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کو  ہم قدروتحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ  سی سی ڈی این پورے چترال خاص کربونی اور دروش میں تقریبات کا اہتمام کرے گی انہوں نے اس  حوالے سے تجویز دی کہ ضلع ناظم، ایم این اے اورتینوں ایم پی ایز ، چیمبر آف کامرس ، سی سی ڈی این وغیرہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اعلانات کے بعد ضلع اور تحصیل کے حوالے سے چیف منسٹر  ڈائریکٹیوز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اپنا کردار اداکریں۔

سی سی ڈی این اہلکاروں کا کہنا تھا کہ گولین گول بجلی گھر تکمیل کے مراحل میں ہے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے مرکزی حکومت خصوصا واپڈا اور سیمبو کو مبارک باد پیش کرتے  ہیں ۔اور عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ چترال میں شاہ بلوط،صنوبر اور جونیپر کے جنگلات  ، یہاں کے 543 گلیشئر ز اور پانی کے ذخائر کو بچانے کے لئے چترال کو 30میگاواٹ بجلی اصل نرخ یعنی ایک روپے فی یونٹ مہیا کیا جائے ۔جس سے نہ صرف چترال کو سیلابوں سے محفوظ رکھا جاسکے گا بلکہ پاکستان کے بڑے ڈیم ورسک اور تربیلا بھی محفوظ رہیں گے علاوہ ازین دریائے سندھ کو بھی وافر مقدار میں پانی مہیا ہوسکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ  سی سی ڈی این چترال میں تشریف لانے والے تمام مہماناگرامی کو مشترکہ طورپر خوش آمدید واستقبال کریں گے اور جو بھی مہمان چترال کے دورے پہیا آئینگے ہم سب مل کر انہیں خوش آمدید کہا جائے گاتاکہ چترال میں ہم آہنگی ،بھائی چارہ ومعاشی ترقی کے بہتر ین  تصویر بن کے ابھر سکے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget