15 نومبر، 2017

کیا آپ متفق ہیں؟ چترال میں 68 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں :رپورٹ



چترال (محکم الدین) ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ پاکستان نے آواز ڈسٹرکٹ فورم کے ایک غیر معمولی اجلاس میں چترال میں گھریلو تشدد اور اس کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے خود کُشی کے رجحان پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

چترال کے ایک سو دیہات میں کئے جانے والے سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چترال میں 68فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں اور یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے ہمت کرکے اپنے اوپر گزرنے والے حالات کو سروے ٹیم سے شیئر کیا ۔ جبکہ ٹیم کے مطابق خواتین کی ایک بڑی تعداد گھریلو تشدد سے متاثر ہونے کے باوجود حالات بیان کرنے سے گریزان ہے اور نامساعد حالات کو مخفی رکھنے کو اپنے لئے بہتر سمجھتی ہے ، خواتین کے مسائل میں کم عمری کی شادی ،وراثت میں حق نہ دینا ،بزور طاقت شادی ، ضلع سے باہر شادی اور غیر مسلموں میں تبدیلی مذہب سے پیدا ہونے والی مشکلات بھی حقوق کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔

رپورٹ میں اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ خواتین کے باہمی تنازعات گھریلو تشدد کی اہم وجوہات میں سے ہیں جو گھر کے اندر ساس بہو یاگھر کی دیگر خواتین اور افراد خانہ کے درمیان جنم لیتی ہیں اور بعض اوقات اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوتی ہیں ،یہاں تک کہ نوبت خود کُشی تک پہنچ جاتی ہے ۔ سیپ کی طرف سے آواز ڈسٹرکٹ فورم کو دیے جانے والے پریزنٹیشن میں ضلع سے باہر شادی کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں ،اور سروے رپورٹ کے مطابق ضلع سے باہر شادی کا تناسب کل آبادی کا چھ فیصد ہے ۔

اس موقع پر کو آرڈنیٹر سیپ محمد اسماعیل نے کہا ۔ کہ آواز پروگرام کے تحت چترال کے ایک سو دیہات میں امن بیٹھک کئے گئے ۔ جس میں خواتین کو اُن کے حقوق بارے میں آگہی اور قوانین کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں ۔ جبکہ دو سو میل فمیل یوتھ پر مشتمل یوتھ گروپ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جو امن کے سفیر کے طور پر معاشرے میں باہمی محبت و احترام کو فروغ دینے کیلئے کام کریں گے ۔

اجلاس میں ہیومن رائٹس فاونڈیشن کے چیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا کہ اُن کے پا س دستیاب ریکارڈ کے مطابق چترال میں گذشتہ چھ سالوں کے دوران 200سے زیادہ جوانسال خواتین نے خود کُشی کی جبکہ 45خواتین کو بچا لیا گیا ۔ ان تمام کو خود کُشی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ لیکن پولیس مقامی لوگوں کے عدم تعاون یا اُن کے کہنے پر ایسے تمام واقعات کو خودکُشی قرار دے کر فائل بند کردیتی ہے ۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر آواز روبینہ صدرآواز ڈسٹرکٹ فورم قاضی سجاد ایڈوکیٹ ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال رحمت الہی ، ثانیہ سردار ایڈوکیٹ ، شہزادی گلفام ،نابیگ ایڈوکیٹ ، محمد عظم بیگ ایڈوکیٹ ، سرور کمال ایڈوکیٹ اور خاتون کونسلر نورجہان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

اشاعت چترال ٹوڈے: جنوری 2017

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget