15 نومبر، 2017

ایک آہم سماجی مسلہ : تحریر شیرولی خان اسیر

 

اسلامی ثقافت میں غمی خوشی میں عزیز رشتے دار،ہمسائے وغیرہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اوراظہار خوشی کے لئے ایک دوسرے کے یہاں حاضری دیتے ہیں- ہماری کھو ثقافت میں بھی اسلامی روایات کے مطابق مبارک بادی بوقت خو شی اور پرسا ہنگام فوتگی کو بڑی اہمیت رہی ہے- خاص کرکے کسی کے گھر میں موت واقع ہوئی ہو تو وہ شخص ہرہر رشتے دار اور جان پہچان والے کے انتظار میں ہوتا ہے کہ وہ کب آئے اور فاتحہ پڑھے- دور دور سے رشتے دار اور دوست سینکڑوں کلومیٹر مشکل سفر برداشت کرکے فاتحہ خوا نی کے لیے آجاتے ہیں- ایسے سفروں کے دوراں درجنوں حادثات بھی پیش آتے رہے ہیں جن میںسینکڑوں افراد لقمئہ اجل بنے ہیں- پھر بھی شدید برفباری اور انتہائی نامساعد حالات میں بھی لوگ آنکھیں بند کرکے سفر کرتے ہیں تاکہ اپنے عزیزوں کی غمی میں ان کے شریک غم ہوسکیں-

قریبی رشتے دار ہفتوں تک ماتم والے گھر میں ٹھہرے رہتے ہیں تاکہ لیٹ مطلع ہونے والے تعزیت کنندگاں بھی آسکیں اور دوبارہ ان کے گھر جانے زخمت نہ ہو-

چترال میں فاتحہ خوانی ایک سیاسی چال کے طور پربھی فائدہ مند شعل ہے-الیکشنس قریب آتے ہی ممبرشپ کے امیدوار اس معاملے میں تیز ہوتے ہیں اورپرانی اموات کو بھی تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے حلقے سے باہر رہنے کا بہانہ ہوتا ہے- وہ اپنے مقامی دلالوں سے معلومات لیتے رہتے ہیں کہ کس کے گھر فوتگی ہوئی یا

کس ہاں شادی ہوئی یا بیٹا ہوا تاکہ وہ موقع کو کیش کرسکے- سادہ ووٹراس لیڈر کی اپنے گھر آمد کو اپنی عزت افزائی سمجھتا ہے اور پولنگ کے دن اپنا ووٹ اس کے حق میں استعمال کرتا ہے چاہے وہ بندہ نااہل ترین ہی کیوں نہ ہو- ہھردھایوں پہلے وفات شدہ بزرگوں کی قبروں میں بھی حاضری لگاتے ہیں-

چونکہ دور حاضر کی مصروفیات بہت سے لوگوں کو اپنے ضلعے بلکہ ملک سے بھی دور رکھتی ہیں اور ایسے افراد اپنے کسی رشتے دار یا دوست کا غم بانٹنے یا اسکی خوشی میں بروقت شریک نہیں ہو پاتے تاہم اپنے دکھ اور ہمدردی یا ممسرت کا اظہار آج کے زمانے کے ذرائع یعنی خط، فون، فیس بک یا مقامی اخبار کے ذریعے کرتے ہیں- پھر مہینوں اور کبھی سالوں بعد جب وہ اپنے علاقے واپس آتے ہیں تو نئے سرے سے گھر گھر جاکر فاتحہ خوانی کرتےاور مبارکی دیتے ہیں یہ پریکٹس آج کے نفسانفسی کےدور کے لحاظ سے بہت مشکل کام ہے- متوفی کےمحرموں اور سگے رشتوں کے علاوہ اس کےچچا، پھوپی اور خالہ ذادوں تک یہ امید رکھتے ہیں کہ ان سے بالمشافہ اظہار ہمدردی کیا جائے-یوں اس تعزیت کرنے والے بندے کے دس پندرہ دن اس سماجی ذمےداری کی آدائیگی میں صرف ہوجاتےہیں اور اگر اس کی چھٹی تھوڑے دنوں کی ہے تو وہ اپنے گھر والوںکووقت نہیں دے پاتا-

ذاتی طور پر میں اس ڈبل فاتحہ خوانی یا اظہار ہمدردی یا مبارک بادی کے خلاف ہوں- پہلے زمانے میں ہماری رشتے داری اور دوستی کا دائرہ محدود تھا-آبادی کے بڑھنے اور تعلقات میں بے تحاشا اضافے کے سبب اب ایک ادمی کے

لئے ہر جگہہ پہنچنا مشکل ہوگیا ہے-نیز دور دور سفر کی تکلیف الگ وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہوتا ہے

میرے والد محترم کہا کرتے تھےکہ خوشی کے موقعے پرتاخیر سے اظہار تہنیت اچھا ہے کیونکہ مبارک باد کا لفظ دعائے خیر اور خوشی کا پیغام ہے ، جتنی دیر سے بھی ہوجائے اچھا ہی اچھا ہے کیونکہ اللہ کی مہربانی پھر سے یاد دلائی جاتی ہے اور اسے تازہ کیا جاتا ہے البتہ غمی کے موقعے پر جتنی جلد ہوسکے اظہار ہمدردی کیا جائے-غم کو بھولنے کے بعد پھر یاد نہ دلایا جا ئے توبہتر ہے- مجھے اپنے والد محترم کی اس رائے کیساتھ مکمل اتفاق ہے- اس لیے جب کسی عزیز کے گھر موت واقع ہوتی ہے توجب اپنے گاؤں میں حاضرہوتا ہوں تو اس کی نماز جنازہ میں شریک ہونے کی کوشش کرتا ہوں البتہ گاؤں سے دور ہونے کی صورت میں فون، فیس بک اور اخبار کے ذریعے تعزیت کو کافی سمجھتا ہوں- میری تجویز یہ بھی ہے کہ دور دراز علاقے کے رشتے دار بنفس خود حاضر ہونے کی بجائے موجودہ دور کی سہولتوں کے ذریعے یہ سماجی ذمے داری ادا کریں تو ہم سب کے لیے آسانی ہیدا ہوگی-

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget