اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

15 نومبر، 2017

سرد #چترال کے گرم جوش لوگ : عمیر صدیقی

سرد #چترال کے گرم جوش لوگ : عمیر صدیقی

گذشتہ سال نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون نے خوبصورت اور تاریخی وادیء چترال کا سفر کرنے پر مجبور کر دیا، جہاں ایک اقلیتی قبیلہ کالاش رہائش پذیر ہے۔

نیویارک ٹائمز کے اس مضمون کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال کے کالاش لوگوں کا ڈی این اے ایک قدیم یورپی آبادی سے ملتا جلتا ہے۔ اور کئی تجزیوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایسا 210 قبلِ مسیح سے بھی پہلے سکندرِ اعظم کی افواج اور مقامی آبادی کی آپس میں شادیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

کالاش چترال کی تین وادیوں رمبور، بمبوریت اور بریر میں رہتے ہیں، اور کالاش زبان بولتے ہیں جو زبانوں کی ہندی ایرانی شاخ کی داردک ذیلی شاخ سے تعلق رکھتی ہے۔ 

کرٹیسی ڈان



کرٹیسی ڈان: مزید جاننے کے لئے لنک پر جائیے

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں