8 نومبر، 2017

چترال میں تحریک انصاف کا تاریخی پاور شو! اپر چترال کو علیحدہ ضلع کا درجہ دے دیا

 


چترال (رپورٹ : کریم اللہ ) بدھ 8 نومبر 2017ء کو پولو گراؤنڈ چترال میں پاکستان تحریک انصاف کا ایک جلسہ منعقد ہوا ، مبصرین کے مطابق یہ چترال کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں سے ایک تھا ۔جلسے سے سابق ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف جناب عبدالطیف کے ساتھ وزیر اعلی کے پی پرویز خٹک اور چیرمین پی ٹی آئی جناب عمران خان نے بھی خطاب کیا ۔ عبدالطیف نے اپنے خطاب میں وزیر اعلی کے پی اور چیرمین پی ٹی آئی کو چترال آنے اور ضلع چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی کے پی پرویز خٹک نے اپنی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2015ء کے زلزلہ متاثرین کے لئے 3ارب روپے کی امداد دی جبکہ ریشن میں سیلاب سے متاثر ہ 4میگاواٹ پاؤر ہاؤس کی بحالی پر کام تیزی سے جاری ہے اور عنقریب یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا، اس کے علاوہ ہماری حکومت نے چترال میں 14سو میگاواٹ کے بجلی گھروں پر عنقریب کام شروع کرنے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں ٹرانزمیشن لائینوں کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو او کو دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ چترال میں دو اسٹیڈیم تعمیر ہوچکے ہیں جبکہ تیسرے اسٹیڈیم کی منظوری بھی دی ۔اس کے علاوہ چترال میں ایک بڑے پارک کی تعمیر کے لئے بھی فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ بہت جلد اپر چترال کی ضلعی حیثیت کا نوٹیفیکشن بھی کر دی جائے گی اور بونی اپر چترال کا ہیڈکورٹر ہوگا ۔تاہم اس سلسلے سے کسی قسم کے فنڈ ز کا اعلان نہیں کیا۔

چیرمین پاکستان تحریک انصاف جناب عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا اہالیان چترال کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے ہم نے پورا کیا اس سے چترال کے دور دراز کے عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ موجودہ بلدیاتی نظام میں کافی خامیاں موجود ہے اگر آپ لوگوں کے تعاون سے اگلی حکومت ملی تو بلدیاتی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگلے بلدیاتی انتخابات میں ضلع ناظم کا انتخاب بھی براہ راست عوامی ووٹوں سے کیا جائے گا۔ اور بلدیاتی نظام ہی کسی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اسی لئے ہم ایم این ایز اور ایم پی ایز کو فنڈ دینے کے بجائے انہیں قانون سازی تک محدود رکھیں گے جبکہ ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔اپنے منشور کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں حکومت ملی تو ہم چار شعبوں میں ایمرجنسی بنیادوں پر کام کریں گے۔

پہلا ہم پوے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کریں گے اور عام تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور ہائر ایجوکیشن کی بہتری کے لئے حکومتی وسائل بروئے کار لائیں گے ۔

دوسری ایمرجنسی ماحولیات کی ہوگی ہم پورے ملک میں شجر کاری مہم شروع کریں گے گو کہ کے پی کی سطح پر بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کامیاب ہوچکی ہے اور چترال جیسے موسمی تعیرات سے متاثرہ خطے میں شجر کاری ناگزیر ہے کیونکہ گلیشئرز پگھلنے کا سلسلہ جاری ہے جس کو روکنے کے لئے جنگلات کی شرح میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہنا تھا کہ ایم ایم اے اور اے این پی کے دور حکومت میں صوبے میں 200 ارب روپے کے جنگلات کی کٹائی ہوئی ، اس کے علاوہ دریاؤں کی صفائی کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ تیسری ایمرجنسی ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ اور امیروں سے ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے نافذ کیاجائے گا جبکہ گڈ گورننس کی بہتری ہماری چوتھی ترجیح ہوگی سول سروس میں اصلاحات لانے کا بھی اعلان کیا ۔

ا نہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت ن لیگی ایم این ایز کو ترقیاتی فنڈز کی مد میں 94ارب روپے دئیے ہیں جو کہ انتخابات پر اثر انداز ہونے اور ملک میں کریشن کو مزید فروع دینے کی کوشش ہے ۔

اپنے خطاب میں عمران خان کاکہنا تھا کہ چترال حقیقی طورپر مہذب اور جرائم سے پاک معاشرہ ہے میں نے پاکستان میں دو ایسے مہذب اور جرائم سے پاک معاشرے دیکھے ہیں ان میں سے ایک بلتستان کا م اور دوسرا چترا ل جہاں تہذیب اور ایکدوسرے کی عزت واحترام کی روایات مستحکم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم چترال اور بلتستان جیسے مہذب معاشروں سے تہذیب سیکھ رہے ہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget