5 نومبر، 2017

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بالائی چترال کے صدر مقام بونی کے مسجد اور جماعت خانہ میں کھلی کچہری۔

 

چترال (گل حماد فاروقی) ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سودھر اور ضلعی انتظامیہ نے 75کلومیٹر دور بالائی چترال تحصیل مستوج کے صدر مقام بونی کے جامع مسجد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ جس میں تمام محکموں کے سربراہان اور نمائندوں نے بھی شرکت کی تاکہ عوام کے شکایات سنے اور ان کا ازالہ کی جاسکے۔

ڈی سی چترال بونی کی ایک مسجد میں (فوٹو: ڈی سی فیس بک پیج)

اس موقع پر ڈی سی چترال نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہیں لیتے ہیں اور سرکاری ملازم پبلک سرونٹ یعنی عوام کا ملازم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، چیف سیکرٹری کے ہدایت کے مطابق چترال میں کھلی کچہری یعنی عوامی عدالت اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ عوام کی مشکلات اور مسائل کی داد رسی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ چترال بہت بڑا ضلع ہے جہاں کے طول و عرض سے لوگ میرے دفتر آتے یا کسی دوسرے محکمے کے دفتر جاتے ہیں مگر پتہ چلا کہ محکمے کا سربراہ موجود نہیں ہے تو عوام کو نہایت مایوسی ہوتی ہے۔اسلئے ہم خود چل کر آپ کے پاس آئے تاکہ ہم خود آپ کے مسائل سنے اور ان کو حل کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھائے۔

کھلی کچہری میں لوگوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ انجنیرنگ، ایریگیشن، میونسپل انتظامیہ، پولیس، سرحد رورل سپورٹ پروگرام، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور ضلع بھر میں تمام محکموں کے حلاف شکایات کے دفتر کھول دئے۔

عوام نے شکایت کیا کہ تورکہو روڈ پر ایک ارب سے زیادہ کا رقم منظور ہوچکا ہے مگر ڈیڑھ سال میں کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے افسران اپنے کمیشن کے حاطر خاموش ہیں اور ٹھیکدار موقع پر آتا نہیں ہے۔ 

یہ بھی شکایت آئی کہ ریشن بجلی گھر دو سال پہلے سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا تھا بونی میں ڈیزل جنریٹر چلایا جاتا ہے جس کا 25 روپے فی یونٹ ادایگی عوام کرتی ہے مگر سرکاری محکموں کے جتنے بھی دفاتر ہیں وہ ڈیزل جنریٹر کی بجلی تو استعمال کرتے ہیں مگر بل نہیں دیتے۔ جس کا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ آئندہ جو محکمہ بل ادا نہ کرے ان کی بجلی کا لائن کاٹ دی جائے۔

محکمہ صحت کے حلاف شکایت آئی کہ سیلاب کے موقع پر امداد کے طور پر دوائی آئی تھی مگر وہ کسی کو بھی نہیں ملی۔ بونی ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر نہیں ہے۔ 

عوام نے شکایت کی کہ محکمہ پبلک ہیلتھ کی جانب سے چترال میں کروڑوں روپے کاغذات میں تو خرچ ہوئے مگر لوگ پینے کی پانی سے محروم ہیں جب انکے دفتر جاتے ہیں تو کوئی افسر نہیں ملتا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ SDO پبلک ہیلتھ ہفتے میں چار دن بونی دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کی شکایت سنے گا اور ان کو حل بھی کرے گا۔ جبکہ ناقص پائپ لائن بچھانے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

سلطان جلال، نصر من ا اللہ، گل حیات، شجاع و دیگر نے شکایت کی کہ رائین اور دیگر دیہات میں ناقص پائپ لگایا گیا ہے جس میں پانی نہیں آتا اور جگہہ جگہہ وقت سے پہلے ٹوٹ چکا ہے۔ 

یوتھ کونسلر نے شکایت کی کہ چترال کے ہر گاؤں میں منشیات کھلے عام دستیاب ہے اور نوجوان نسل نشے کے لعنت میں دھنس چکا ہے یہ منشیات کہاں سے اور کیسے پہنچتا ہے جبکہ جگہہ جگہہ پولیس کے ناکھے لگے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر علی اکبر نے یقین دہائی کرائی کہ منشیات فروشوں کے حلاف سختی سے کاروائی کی جائے گی۔

بعد میں ڈپٹی کمشنر نے سنٹرل جماعت خانہ میں بھی کھلی کچہری لگائی جہاں اسماعیلی کمیونٹی کے لوگوں نے ان کے سامنے اپنے شکایات اور تجاویز پیش کئے۔ محکمہ خوراک کے حلاف شکایت آئی کو عوام کو ناقص اور پرانا گندم فراہم کرتا ہے جس کی بار بار شکایت کی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ آبپاشی کی کوئی نہر ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی کرڑوں روپے غبن ہوگئے مگر لوگ پینے اور ذراعت کے پانی سے محروم ہیں۔ تحصیل میونسپل کے بارے میں شکایت کی گئی کہ ان کا عملہ تنخواہیں تو لیتے ہیں مگر صفائی نہیں کرتی۔ لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ غیر سرکاری اداروں کی جانب سے جتنے بھی بجلی گھر تعمیر کئے جاتے ہیں وہ ناقص ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان میں زیادہ تر بجلی گھر ناکارہ ہوچکے ہیں اور عوام بجلی سے محروم ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ چترال کے ہر مسجد اور جماعت حانہ میں کھلی کچہری لگائے گا تاکہ یہاں سب عوام آسکے اوراس میں شرکت کرسکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget