نومبر 29, 2017

خیبر پختونخوا اسمبلی نے خواتین کے تحفظ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی

 

پشاور (ٹی او سی نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا کابینہ نے خواتین کے تحفظ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری سمیت انفراسٹرکچرکی ترقی کے لئے سیس اکھٹا کرنے کا اختیارایکسائزڈیپارٹمنٹ کو دے دیا،انفارمیشن پالیسی میں مناسب ترمیم کی بھی منظوری دے دی گئی۔ سزا و جزا کا رجحان قائم رہے گا خیبر پختونخوا کابینہ نے خواتین کو تحفظ ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی، ترمیم کے بعد خواتین کو کام جگہوں (جہاں جہاں وہ ملازمت کرتی ہیں)  میں ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہوگی ۔



صوبائی کابینہ نے انفراسٹر کچر کی ترقی کے لئے سیس اکھٹا کرنے کا اختیار ایکسائزڈیپارٹمنٹ کو دے دیا،اس سے قبل سیس کی وصولی کا اختیارخیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے پاس تھا، وزیر اعلی پرویز خٹک کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس نے مشیر مشتاق غنی اور اشتیاق ارمڑ کو مکمل وزیر بنانیکی بھی منظوری دی ،اسی طرح ممبرلیبر ایپلیٹ ٹریبونل کی تعیناتی، خیبرپختونخوا فشریزرولز 1976میں ترامیم اور ہیلتھ فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنر کے ممبرزکی نامزدگیوں کی بھی منظوری دی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے کہا کہ ٹی ایم ایز کے اکاونٹس کو شفاف بنانے کے لئے محکمہ خزانہ اور لوکل گورنمنٹ مشترکہ اجلاس بلائے تاکہ شفافیت اور فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جاسکے وزیراعلی نے آبیانہ اور ریونیو کی وصولی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اس سلسلے میں کوتاہی اور سستی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ سزا اور جزا کا رحجان برقرار رہے سسٹم کو فعال رکھنے کے لیئے اقدامات ناگریز ہیں ایکشن نظر آنا چایئے وزیر اعلی نے اگلے ماہ اس بارے پراگرس رپورٹ طلب کر لی ۔تحصیل کی سطح پر نئے پولیس اسٹیشنز کے قیام کے لئے فنڈز کے بارے میں بھیوزیراعلی نے اپ ڈیٹس طلب کر لیں، وزیر اعلی پرویز خٹک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کہ پشاور میں ریپڈ بس پراجیکٹ کے علاوہ چالیس ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جس سے پشاور کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو گا اس کے علاوہ صوبے میں 69 کالجز پر کام شروع ہے ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی خود کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے وزیر اعلی نے تمام محکموںمیں فعالیت کے لیئے ضروری ترامیم کی ہدایت کر دی- وزیر اعلی نے دو مشیروں مشتاق غنی اور اشتیاق ارمڑ کو مکمل وزیر کی بھی منظوری دے دی وزیر اعلی نے سینتیس ہزار اساتذہ کی مستقلی کا بل اسمبلی میں لانے کی ہدایت بھی کی۔خیبر پختونخوا کابینہ کو سال دو ہزار سولہ سترہ میں محاصل اوراخراجات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت سے 379.88ارب روپے میں سے 366.94ارب روپے موصول ہوئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget