نومبر 23, 2017

محکمہ مواصلات کی غفلت سے چترال کے سڑکوں پر جگہہ جگہہ پانی کھڑا ہونے سے سڑکیں تباہ۔ محکمہ خاموش تماشائی۔

چترال (گل حماد فاروقی) ایک غریب ملک جو بیرونی قرضوں پر چلتا ہو اس کی سرکاری املاک کی بے دریغی سے استعمال کرنا یا اسے ضائع کرنا واقعی لمحہ فکریہ ہے۔ خیبر پحتون خواہ میں پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کا اتحادی حکومت ہے ان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں بدعنوانی حتم ہوئی اور انقلاب آیا مگر چترال آکر یہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اس کا سب سے بڑا مثال محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات) کی ناقص کارکردگی ہے۔ 

اسی محکمے نے کچھ عرصہ قبل ایک ڈپٹی کمشنر کو ذاتی فائدہ پہنچانے کیلئے ڈی سی آفس روڈ پر سڑک کے بیچ میں حفاظتی دیوار تعمیر کیا تھا جس پر لاکھوں روپے کا خرچ آیا تھا اس کے حلاف ہمارے نمائندے نے آواز اٹھایا اور اس خبر کو میڈیا میں اجاگر کیا اور مطالبہ کیا تھا کہ ڈی سی روڈ کی بجائے ان حفاظتی دیواروں کو اگر دریائے چترال کے کنارے چیو پل کے قریب تعمیر کی جائے جہاں کئی گاڑیاں دریا میں گر کر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہے تو حادثات کا شرح کم ہوسکتا ہے۔ 

جس پر شہید ڈپٹی کمشنر اسامہ وڑائچ نے نوٹس لیتے ہوئے اس سڑک کو مسمار تو کیا مگر محکمے کے اندر کالے بھیڑیوں کے خلاف حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ موجودہ ڈپٹی کمشنر ارشاد احمد کے نوٹس میں بھی لایا گیا جس نے بالآحر چیو پل کے قریب سڑک کے کنارے دریا کی جانب حفاظتی دیواروں کی تعمیر کا کام شروع کروایا۔ 

عبد الولی خان بائی پاس روڈ ایک سال سے بھی پہلے ریڈیو پاکستان کے دفتر کے سامنے تباہ ہوا تھا جسے دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر نہ تو ٹھیکدار کے حلاف کاروائی ہوئی نہ محکمے کے کمیشن خور مافیا کے حلاف کوئی کاروائی ہوئی۔ایسے کئی مثالیں موجود ہیں جو اس محکمے کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سینگور روڈ پر ایک بااثر شحص نے سرکاری سڑک پر قبضہ کرکے نجی سکول بنایا ۔ ہمارے نمائندے نے اسسٹنٹ کمشنر عبد الاکرم، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسیئن مقبول اعظم، ایس ڈی او ، طارق، سب انجنئیر امجدجان وغیرہ کے دفتر بار بار جاکر ان کے نوٹس میں لایا ۔ جس پر امجد جان نے موقع پر جاکر معائنہ کیا جبکہ ایس ڈی او نے بھی معائنہ کرکے تصدیق کردی کہ واقعی میں تجاوزات ہوچکی ہے اور سرکاری سڑک پر نجی سکول کا دیوار بنایا گیا ہے جب اس کے مالک سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چترال میں تو سب لوگ سرکاری املاک پر یا سڑک پر قبضہ کرکے تعمیرات کرتے ہیں مگر ان کے حلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

اسی طرح چترال کی سڑکوں پر اس غریب صوبے کے ہر سال کروڑوں روپے لگتے ہیں مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی غفلت کی وجہ سے کہ سڑکیں چھ ماہ تک قائم نہیں رہتی اور بہت جلد اس میں کھڈے پڑتے ہیں۔

اس کی بڑی وجہ ان سڑکوں پر جگہہ جگہہ پانی کی بہاؤ ہے۔ چترال کی سڑکوں پر محتلف مقامات پر پانی بہتا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ کولی اور دیگر اہلکار یا تو گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں یا پھر کام ہی نہیں کرتے۔

اس کا بڑا ثبوت چترال کے منتحب رکن صوبائی اسمبلی کے آبائی گاؤں گرم چشمہ روڈ ہے اس روڈ پر جگہہ جگہہ پانی بہتا ہے۔ حاص کر سینگور کے مقام پر پانی کا تالاب بنا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصا ف کے ایک کارکن جس نے بلدیاتی انتحابات میں حصہ بھی لیا تھا اس کا کہنا ہے کہ سینگور گاؤں کا روڈ کولی محکمے سے ہر ماہ تنخواہ تو لیتا ہے مگر محکمے نے اسے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔اس نے مزید بتایا کہ ہم نے بار ہا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنئیر کو شکایت کی کہ سینگور وغیرہ سے تعلق رکھنے والے محکمے کے اہلکار اپنی ڈیوٹی نہیں کرتے اور سڑک پر ہر وقت پانی بہنے سے نہ صرف لوگوں کو سفر میں تکلیف کا سامنا ہے بلکہ سڑک بھی برباد ہورہی ہے مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے ان کے اہلکاروں کے حلاف کوئی کاروائی نہیں کی اور نہ ان کو پابند کیا کہ وہ اپنا تنخواہ حلال کرے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ان اہلکاروں کو ایک بااثر شحص کی آشیر باد حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں۔ عوام شکایت کررہے ہیں کہ اکثر سرکاری محکموں کے اہلکار ڈیوٹی نہیں کرتے مگر تنخواہ بروقت لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب ہمارے نمائندے نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے XEN سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر موصوف پشاور میں کسی میٹنگ کے سلسلے میں گئے تھے جبکہ ایس ڈی او نے بات کرنے سے معذرت کرلی۔

چترال کے عوام انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے تمام سٹاف کو پابند کرے کہ وہ اپنا ڈیوٹی کرے اگر کسی اہلکار کو ضرورت نہ ہو تو اسے فارغ کرکے اس کی جگہہ حق دار شحص کو خدمت کا موقع دی جائے ۔ عوام یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال کے سڑکوں پر بہنے والے پانی کو روک کر ان نالیوں کو صاف کرکے کھول دی جائے تاکہ یہ پانی سڑکوں پر بہہ کر نہ صرف راہگیروں کیلئے تکلیف کا باعث بنے بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی ان سڑکوں کو بھی تباہ سے بچایا جائے۔

واضح رہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے بارے میں عام طور پر یہ شکایت رہی ہے کہ کمیشن کے علاوہ ان کے اہلکار ڈیوٹی بھی نہیں کرتے اور جو روڈ کولی اس محکمے سے تنخواہ لے رہے ہیں ان کے گاؤں ہی میں سڑک پر پانی بہہ رہی ہے مگر یہ لوگ ان کو نہیں روکتے جو ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget