نومبر 22, 2017

شریفاں بی بی اور خیبرپختونخوا پولیس : کالم ظہور احمد دھریجہ

شریفاں بی بی اور خیبرپختونخوا پولیس : کالم  ظہور احمد دھریجہ ۔ سرائیکی وسیب

اپنی بات شروع کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹانک سے اپنی جماعت کے ممبر قومی اسمبلی داور کنڈی کو اپنی پارٹی سے نکال دیا ہے ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے امین اللہ گنڈاپور کے خلاف بات کی کہ وہ سانحہ درابن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ داور کنڈی کا ایک قصور یہ بھی ہے کہ وہ سرائیکی صوبے اور سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔

ڈی آئی خان کی گلالائی، مجھے نہیں معلوم کہ یہ میرے کالم کا عنوان بنتا ہے یا نہیں مگر میںیہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن میں 16 سال کی دو شیزہ شریفاں بی بی کے ساتھ جوواقعہ پیش آ یا اگر یہی واقعہ، اﷲ معاف کرے، کسی پشتون لڑکی کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو متعلقہ تھانے کے تھانیدار سے لےکر آئی جی تک معطل ہو چکے ہوتے اور عمران خان بھی تمام کام چھوڑ کر جائے حادثہ پر پہنچے ہوتے، کتنی شرمناک بات ہے کہ اتنی قیامت گذر گئی مگر عمران خان کو ابھی تک اظہار افسوس کا بھی وقت نہیں ملا، تبدیلی جو ہم نے صوبہ سرحد میں دیکھی وہ یہ کہ پولیس کی ملی بھگت اور ساز باز سے ایک بے گناہ بچی کو برہنہ کر کے ایک گھنٹہ گلیوں میں گھمایا گیا۔ اگر یہی تبدیلی ہے تو ایسی تبدیلی پر ڈوب مرنا چاہئے۔ عمران خان مسلسل دعویٰ کرتے ہےں کہ خیبر پختونخوا کی پولیس کو ماڈل پولیس بنا دیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہی ماڈل پولیس ہے ؟ جو کرائم ڈیزائن کر کے ایک معصوم دوشیزہ کو سر عام بے لباس کرا دے اور اسے ایک گھنٹہ دن دیہاڑے سر عام گلیوں میں ننگا گھمائے۔ آپ واقعے کی پوری تفصیل دیکھئے پورے واقعے کا محور مرکز تھانیدار اور پولیس نظر آئے گی۔

واقعات کے مطابق تحصیل د را بن کے تھا نہ چوڈواں کی حدود مےں واقع گر ہ مٹ کی کو کب برا دری نے سا جد سیا ل نا می با ئیس سالہ نو جوا ن پر اپنے خا ند ان کی کسی لڑ کی سے خفیہ محبت کا الزام لگا یا،جس کے بعد دونوں خا ند انو ں مےں کشید گی پیدا ہو گئی،اس تنا زعہ کو حل کر ا نے کے لئے تحصیل نا ظم ہما یو ں خا ن نے مدا خلت کر کے فریقین کو ثالثی پر راضی کر لیا،دونو ں کا مو قف سننے کے بعد پنچا ئت نے کو مب بر ادری کی بد نا می کے ازالہ کی خا طر سا جد سیال پر دو لا کھ روپے جر ما نہ عا ئدکیا، ادا ئیگی کے بعد فریقین مےں صلح ہو گئی۔پھر کیا ہوا؟ اس واقعے کی تفصیل پڑ ھتے ہوئے کلیجہ منہ کوآتا ہے، کومب خا ند ان کے دس مسلح افرا د نے جمعہ کی صبح ساجد سیال کی سولہ سا لہ بہن شریفا ں بی بی کو اس وقت پکڑ کے بے لبا س کر دیا جب وہ بار شی جوہڑ سے پانی بھر کے گھر واپس لو ٹ رہی تھی،کلا شنکوفوں سے مسلح افرا د نے معصو م شر یفا ں بی بی کو بر ہنہ کرنے کے بعد گا ﺅ ں مےں گھما یا، چیختی چلا تی معصوم بچی پنا ہ کی خا طر بھا گ کر جب بھی کسی گھر مےں دا خل ہو تی، مسلح حملہ آور زبر دستی اسے با ہر نکلو الیتے،خو ف و دہشت سے لر زتی معصو م بچی کی آہ و فغا ں سے زمین و آسما ن تو لر زتے رہے لیکن ظا لم حملہ آوروں کو رحم نہ آیا مد د کیلئے آ گے بڑ ھنے والو ں پر بھی کلاشنکو فےں تا ن لی گئےں،عینی شا ہدین کے مطا بق کم و بیش ایک گھنٹے تک گاﺅں کی گلیو ں مےں کلا شنکو فو ںکی تڑتڑا ہٹ مےں ایک معصوم بچی کے سا تھ بے حیا ئی اور بے غیر تی کا کھیل کھیلا گیا ظلم کی دا ستا ن یہی پر ختم نہیں ہو ئی آگے سنئے۔

معصو م بچی کو بے لبا س کر نے والے ملزما ن نے مقامی پو لیس سے مبینہ ساز با ز کر کے واردا ت سے قبل تھا نہ مےں شر یفا ں بی بی کے اکلو تے بھائی سا جد سیا ل کے خلاف اپنی خا تو ن( متو بی بی ) سے چھیڑ خا نی کی جھو ٹی ر پو رٹ در ج کر انے کے فو ری بعد مو با ئل فو ن پر گھا ت مےں بیٹھے اپنے مسلح افرا د کو کار روا ئی کا اشا رہ دے کر ستم گری کا با زار گر م کر ایا،جس کے بعد نہا یت بیبا کی کے ساتھ ظالموں نے بے گنا ہ بچی کو بے لبا س کر کے اس کی ویڈیو بنا کر اپنی آتش انتقا م کو ٹھنڈ ا کیا،ستم ظر یفی کی انتہا ہ دیکھئے کہ مظلو مہ کے ورثا جب متا ثرہ لڑ کی کو سا تھ لے کر مقد مہ درج کر ا نے تھا نہ پہنچے تو ایس ایچ او نے ستم رسیدہ لڑ کی کی داد رسی کی بجا ئے پہلے شر یفا ں بی بی کے بھا ئی کے خلاف جھو ٹی ایف آر نمبر 209در ج کی،بعد مےں شریفا ں کی اصل رپو رٹ لکھنے کی بجا ئے ایف آئی آر نمبر 210مےں اپنی طر ف سے من گھڑ ت کہا نی لکھ کر ملزمان کو بچا نے کی کو شش کر کے عدل و انصا ف اور احترام انسا نیت کو مو ت کے گھا ٹ اتا ر دیا اور صا ف بتا دیا کے وہ بھی شر یکِ جر م ہے اور سب کچھ اس کی آشیر با د سے ہو ا۔

ظلم تو یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے پر صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی خاموش ہے۔ اےسا لگتا ہے لوگ ابھی نواب پور ملتان مختاراں مائی مظفر گڑھ اور حال ہی میں ملتان کے تھانہ مظفر آباد میں دو شیزہ کے ساتھ ہونیوالی بربریت کو نہ بھولے تھے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن میں نیا واقعہ پیش آ گیا۔ اگر پہلے واقعات کے ملزمان کو قرار واقعی سز ا مل جاتی تو اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوتے، روز اول سے لےکر روز آخر اور قیامت قائم ہونے کے بعد بھی قانون یہی ہے کہ جس نے جرم کیا سزا صرف اسے ملے گی۔ بےٹے کی سزا باپ کو اور باپ کی بےٹے کو نہیں ملے گی اسی طرح بھائی کے جرم کی سزا بہن کو دےنے کا دنیا میں کہیں قانون نہیں ہے لیکن یہ کہاں کا اصول یا انصاف ہے کہ بھائی، خواہ وہ کتنا ہی مجرم کیوں نہ ہو، اس کی سزا بہن کو ملے، اےسے عمل کو جسے بے شرم اور بے حیا قسم کے لوگ غیرت کا نام دےتے ہےں،حالانکہ یہ پر لے درجے کی بے غیرتی ہے، عورتوں کے ساتھ یہ روےے اس امتیازی سلوک کے غماز بھی ہےں جسے ضیا الحق دور سے لیکر آج تک طالبائزیشن کی شکل پروان چڑھایا گیا، عورت سے امتیازی سلوک کیوں؟ خدا کے بندو کچھ تو خیال کرواگر ہم اپنے مذہب کا مطالعہ کریں تو عورت پیغمبر نہیں مگرا س کی ماں ضرور ہے۔

مجھے حیرانی ہے کہ اس مسئلے پر علماءخاموش کیوں ہےں؟ مولانا فضل الرحمان سمیت جن مولویوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کے سرائیکیوں نے ووٹوں کے ساتھ وظےفے بھی دےے، وہ بھی خاموش ہےں۔ جماعت اسلامی کے ارکان صاحبزادہ طارق، صاحبزادہ یعقوب شیر اکبر اور عائشہ سید نے نہایت تاخیر سے قومی اسمبلی میں محض مذمتی قرارداد جمع کرائی، سوال یہ ہے، کیا اتنا کافی ہے ؟ جماعت اسلامی سرائیکی وسیب اور سرائیکی قوم کو تقسیم کرنے کےلئے بہاولپور صوبے کے نام پر ریلیاں نکالتی ہے کیا اس پر لازم نہ تھا کہ وہ ایک بچی کو بے لباس کرنے والوں کے خلاف سڑکوں پر آتی۔ سرائیکستان عوامی اتحاد کے احتجاجی جلسے میں معصوم بچی کا نام لیا تو آواز آئی کہ اسے بے لباس کرنے والے بھی سرائیکی تھے میں نے جواب دیا کہ جس طرح چور ڈاکو قاتل اور کنجر کی کوئی ذات نہیں ہوتی اسی طرح جو لوگ اس طرح کے عمل کرتے ہےں اےسے سفاک لوگوں کی بھی کوئی ذات نہیں، قانون سازی کر کے اےسے بے شرم لوگوں کو تختہ دار پر چڑھا دینا چاہےے،جو مرد کے جرم کی سزا مظلوم دو شیزہ کو دےتے ہےں۔

عمران خان نے لاہور میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پولیس کے ذہنی روےے معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہےں ہم پولیس کی مادر پدر آزادی کو ختم کریں گے اور جو ابدہی کا قانون سامنے لائیں گے۔ آج سوال یہ ہے کہ کہاں ہے وہ قانون ؟ سرائیکی میں کہتے غصہ اور قانون طاقتور پر آتا نہیں اورکمزور سے اترتا نہیں۔ پولیس تشدد کا شکار پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سرائیکی ہوتے آرہے ہےں کہ وہ محکوم اور کمزور ہےں۔ ایم ایم اے اور اے ین پی کے بعد خیبر پختونخواہ میں سرائیکیوں کو امید ہو چلی تھی کہ انہیں انصاف ملے گا مگر نہ صرف یہ کہ انصاف یاریلیف نہیں ملا بلکہ ظلم بڑھ گیاہے، جس طرح پنجاب میں اپر پنجاب کی بیوروکریسی راج کررہی ہے اس سے بڑھ کر پشتون بیوروکریسی ڈی آئی خان ڈویژن میں سرائیکی وسیب پر ظلم بر سار ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محمود پر جوں تک نہیں رینگی اور نہ اصل ملزم سجاول گرفتار ہوا۔

(کالم نگار سرائیکی دانشور اور زیادہ تر سرائیکیوں کے مسائل پر لکھتے ہیں)

بشکریہ خبریں :  اشاعت 22 نومبر 2017


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget