9 نومبر، 2017

ضلع بنانے کے لئے عمران خان کا شکریہ مگر ضلع تورغر جیسا سلوک نہ کیا جائے: ایم این اے افتخار الدین

 

چترال (ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ ڈیسک) چترال کو 2 اضلاع میں تقسیم کرنے پر عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی چترال افتخار الدین نے کہا ہے کہ اپر چترال کی عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرکے پی ٹی آئی نے اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اور ساتھ ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اس ضلع کے ساتھ تورغر جیسا سلوک نہیں کریگی اور اسے تورغر جیسا ضلع نہیں بنائے گی۔ رقبے کے لحاظ سے ضلع چترال صوبے کا سب سے بڑا ضلع تھا اور اب ضلع اپر چترال بڑا ضلع ہوگا۔ 

نئے ضلع کی انتظامی مسائل کے حل کے لئے صوبائی حکومت کو سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے۔ 


شہزادہ افتخار کا کہنا ہے کہ کریم آباد، مدک لشٹ شیشی کوہ ، ریچ ، تریچ ودیگر علاقوں کی سڑکوں کو کمیونیکیشن اینڈ ورکس خیبر پختونخواہ کے سپرد کرنے کے چیف منسٹر کے فیصلے پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ یہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ جس کی وجہ سے علاقوں کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا  کہ گولین گول بجلی گھر سے سب ڈویژن مستوج، گرم چشمہ اور مدک لشٹ اضافی فیڈرز دینے کی یاد دہانی وفاقی وزیر اویس لغاری کو کراچکے ہیں۔ جس پر انہوں ان کے سامنے پیسکوکے سی ای او سے بات کی ہے اور اس پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔

ایم این اے نے بتایا کہ واپڈا، پیسکو اور پیڈو سے اگلے ہفتے میٹنگ ہوگی تاکہ معاہدے کو ختمی شکل دی جاسکے۔ معاہدے کی کامیابی کے بعد گولین گول سے سب ڈویژن مستوج کو بجلی دینے کا فیصلہ ہوجائے گا جبکہ چترال ٹاون اور دروش و دیگر ملحقہ علاقوں کو بجلی دینے کی حتمی منظوری ہوچکی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget