اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

9 نومبر، 2017

کوئی شرم ہوتی ہے کو ئی حیا ہوتی ہے: برطانوی وزیر کارل سارجنٹ نے شرمندگی کے باعث خودکشی کر لی: پڑھیں

 

لندن (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک) برطانوی لیبر منسٹر کارل سارجنٹ پر الزام تھا کہ وہ خواتین کا ہراسان کرتے ہیں۔ یہ محض الزام تھا یا کہ اس میں کوئی حقیقت بھی تھی تاہم تحقیقات ہورہی تھیں اور تحقیقات ہونے تک وزیر کارل کو برطرف کردیا گیا تھا۔

49 سالہ کارل سارجنٹ یہ شرمندگی برداشت نہ کرسکے اور شرمندگی محسوس کرتے ہوئے خودکشی کر لی، برطانوی اراکین پارلیمینٹ کا خواتین کو ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کے رکن " کارل سارجنٹ " نے خود کشی کر لی۔

کارل کے خاندان کا کہنا ہے کہ کارل کی موت سے ہمارا جو نقصان ہوا ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتا ہے، کارل نے ہمیں جوڑے رکھا تھا۔ کارل کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’کارل پیار کرنے والا شوہر، شفقت بھرا باپ پرخلوص دوست تھا۔‘‘

کارل شادی شدہ اور 2 بچوں کا باپ تھا۔ ان کی خود کشی پر سیاستدانوں نے بھی دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی وزیر نے شرمندگی سے خودکشی کر لی۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ کارل سارجنٹ پر تین خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ خبر سامنے آنے کے بعد سے رکن پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار تھا۔ انچاس سالہ کارل سارجنٹ کی لاش ان کے گھر سے برآمد کی گئی۔ برطانوی رکن پارلمینٹ جیریمی کوربن کو واقعے کی خبر ہوئی تو انہوں نے بھی حیرانی اور افسوس کا اظہار کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں