5 نومبر، 2017

ڈپٹی کمشنر چترال کا نرالہ انداز، مساجد اور جماعت خانوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد

 

رپورٹ: کریم اللہ 
ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سدھیر کی جانب سے عوامی مسائل سے آگاہی کے لئے ضلع کے اندر کھلی کچہریوں کا انعقاد شروع کیا ہے ۔ اس سلسلے میں 3نومبر 2017ء کو جمعہ کے بعد جامع مسجد بونی میں کھلی کچہری کا انقعاد کیا گیا جبکہ وہاں سے فارع ہوکر ڈپٹی کمشنر ضلع میں موجود سارے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہوں کو لے کر سنٹر جماعت خانہ بونی پہنچے جہاں اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کھلے مقامات پر کچہریوں کے انعقاد سے صرف سیاسی لوگ ہی اس میں شامل ہوتے ہیں جبکہ عوام کی بڑی تعداد ان میں شرکت نہیں کرپاتے اس لئے ہم نے فیصلہ یہ کیا کہ ہر جمعہ کے دن ضلع کے کسی نہ کسی عبادت خانہ میں جاکر لوگوں سے مل کر ان کے مسائل سن لے اور فوری طورپر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اس موقع بعض لوگوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چترال اور پورے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ سب ڈویژن مستوج کے طول عرض میں لینڈ مافیاز کی جانب سے عوامی چراگاہوں اور سڑکوں پر تجاویزات کی گئی ہے اس سلسلے میں کئی کیسز بھی ڈپٹی کمشنر یا اے سی صاحبان کے عدالتوں میں گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت ہے لیکن اس پر ابھی تک کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جولوگوں کے معاشی نقصانات کے ساتھ ساتھ گاؤں کی سطح پر ٹینشن کا بھی باعث بن رہے ہیں لہذا ان کیسز کی جلد ازجلد سماعت کرکے کسی منطقی نتیجے پر پہنچایا جائے۔جبکہ ضلعی انتظامیہ کوچترال میں ٹرانسپورٹ کی ناگفتہ بہہ  صورتحال ،ناجائز کرایوں، اڈوں میں انتظار گاہ، واش رومز اور دوسری بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کا بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔

البتہ  بیشتر اوقات دونوں جگہوں میں سیاسی لوگوں نے ہی بے سروپا مطالبات سے ان کچہریوں کے مقاصد میں روڑے اٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اور ضلعی انتظامہ کے سامنے ایسے ایسے مطالبات رکھے جو ان سے متعلق ہی نہیں تھیں۔

ڈی سی بونی جماعت خانے میں (فوٹو ڈی سی فیس بک پیج)

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget