اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 دسمبر، 2017

معاشرے کو جنگ میں دھکیلنا، گالیاں دینا، دہشت گردی پھیلانا، بے گناہوں کا خون بہانا شرعی تعلیمات کے خلاف ہیں: مولانا فضل الرحمان

 


بنوں (ٹی او سی مانیٹرنگ ڈیسک)  جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اسلام میں دہشت گردی اور بے گناہ خون بہانے کا کوئی تصور نہیں جب کہ معاشرے کو جنگ میں دھکیلنا بھی کوئی شریعت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں دہشت گردی اور بے گناہ خون بہانے کا کوئی تصور نہیں جب کہ معاشرے کو جنگ میں دھکیلنا بھی کوئی شریعت نہیں۔

بنوں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے  کہ لوگوں کو گالیاں دینا، دہشت گردی پھیلانا اور بے گناہ خون بہانا شرعی تعلیمات میں شامل نہیں۔ معاشرے کو جنگ میں دھکیلنا بھی شریعت کے خلاف ہے ہم لوگ ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں انسانیت محفوظ رہے۔ فیض آباد دھرنے میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیئے تھا لیکن ایک خاص سازش کے تحت فورسز اور عوام کو لڑانے کی کوشش کی گئی۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا ہے کہ تمام صوبوں کو اختیارات مل چکے ہیں لیکن عملی اقدامات ابھی بھی باقی ہیں، جس طرح خیبرپختون خوا، سندھ اور بلوچستان کے وسائل پر وہاں کے مقامی لوگوں کا حق ہے، اسی طرح فاٹا کے عوام وہاں کے وسائل کے مالک ہیں، ہم فاٹا کی ملکیت پر کسی کو ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔ ان کی پوری زندگی کرپشن کرپشن کا سنتے ہوئے گزر گئی لیکن کرپشن کا نعرہ لگانے والے کھل کر سامنے نہیں آتے آج تک کرپٹ افراد اپنے انجام تک پہنچتے نہیں دیکھے، ہماری معیشت غلام بن چکی ہے ہم سود اور حرام کی معیشت نہیں بلکہ حلال معیشت کی بات کرتے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں