دسمبر 2, 2017

ہنسنا بھی ضروری ہے، مزیدار لطیفے پڑھیں

ایک صحافی دوسرے سے کہہ رہا تھا:
”فلاں صحافی بک گیا، فلاں نے اتنی رقم لے کر اپنا قلم بیچ دیا، اس نے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کیا ہے۔ غرض ہر صحافی اور ادیب بک گیا، لیکن میں آج تک نہیں بکا۔“

دوسرے نے یہ ساری بات سن کر کہا:
”بھائی تم جس اخبار میں لکھتے ہو، وہ اخبار کبھی فروخت نہیں ہوا،
 پھر تم کیسے فروخت ہوسکتے ہو۔“

ـــــ☺ــــــ

سردار اپنا سر پانی میں ڈبو ڈبو کر چیک کر رہا تھا……
بیوی : کیا کر رہے ہو؟
سردار : دماغ چلتا نہیں ہے سالا 
دیکھ رہا ہوں کہ کہیں پنکچر تو نہیں۔

ـــــ☺ــــــ

استاد کلاس میں سمجھاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ 
محنت کر کے آدمی جو چاہے بن سکتاہے آپ 
لوگ محنت کے ذریعے اپنی خواہشات پوری 
کر سکتے ہیں۔

بھولابولا…”مگر جناب میرے ابو کہتے ہیں کہ 
میرے خواہش پوری نہیں ہو سکتی“ 

”تمہاری کیا خواہش ہے“

استاد نے پو چھا ”جناب میں لیڈی ڈاکٹر بننا چاہتاہوں“ بھولے نے معصومیت سے جواب دیا۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget