اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

2 دسمبر، 2017

ہنسنا بھی ضروری ہے، مزیدار لطیفے پڑھیں

ایک صحافی دوسرے سے کہہ رہا تھا:
”فلاں صحافی بک گیا، فلاں نے اتنی رقم لے کر اپنا قلم بیچ دیا، اس نے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کیا ہے۔ غرض ہر صحافی اور ادیب بک گیا، لیکن میں آج تک نہیں بکا۔“

دوسرے نے یہ ساری بات سن کر کہا:
”بھائی تم جس اخبار میں لکھتے ہو، وہ اخبار کبھی فروخت نہیں ہوا،
 پھر تم کیسے فروخت ہوسکتے ہو۔“

ـــــ☺ــــــ

سردار اپنا سر پانی میں ڈبو ڈبو کر چیک کر رہا تھا……
بیوی : کیا کر رہے ہو؟
سردار : دماغ چلتا نہیں ہے سالا 
دیکھ رہا ہوں کہ کہیں پنکچر تو نہیں۔

ـــــ☺ــــــ

استاد کلاس میں سمجھاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ 
محنت کر کے آدمی جو چاہے بن سکتاہے آپ 
لوگ محنت کے ذریعے اپنی خواہشات پوری 
کر سکتے ہیں۔

بھولابولا…”مگر جناب میرے ابو کہتے ہیں کہ 
میرے خواہش پوری نہیں ہو سکتی“ 

”تمہاری کیا خواہش ہے“

استاد نے پو چھا ”جناب میں لیڈی ڈاکٹر بننا چاہتاہوں“ بھولے نے معصومیت سے جواب دیا۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں