دسمبر 5, 2017

ہمدرد انسانیت اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم آغاخان کی چترال آمد، مثالی والٹیئرزم اور مذہبی ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال

 

ہمدرد انسانیت اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم آغاخان کی چترال آمد، مثالی والٹیئرزم اور مذہبی ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال 

تحریر افسرخان
پرنس کریم آغاخان کا اصل نام شاہ کریم الحسینی ہے لیکن آپ دنیا میں خدمت انسانیت کے وصف سے جانے، مانے اور پہنچانے جاتے ہیں۔ دنیائے جہاں میں جہاں جہاں انسانی آبادی پسماندگی کا شکار ہے وہاں آپ کو اے کے ڈی این کام کرتا نظر آئے گا۔



ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان 13 دسمبر 1936 کو جنیوا میں پیدا ہوئے اور 1957 میں آغاخان سوئم امام سرسلطان محمد شاہ کی رحلت کے بعد شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے 49 ویں امام مقرر ہوئے۔ شیعہ امامی اسماعیلی شیعہ فرقوں کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ شاہ کریم الحسینی ایسے بادشاہ ہیں جن کی حکمرانی کسی مخصوص قطعہ زمین پر نہیں بلکہ اپنے پیرو کاروں کے دلوں پر ہے۔ اسماعیلی جماعت اپنے امام زمان کی ہدایت کو حرف آخر سجھتے ہیں اور ان کے فرامین پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی رہتے ہیں پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنے امام کی طرح خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار رہتے ہیں۔ امن، تعلیم اور انسانیت دوستی ان کی شناخت ہے۔

پرنس کریم آغاخان چہارم نے آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی بیناد رکھی، جو دنیا کے تقریباً 35 ملکوں میں غربت میں کمی اور انسانی معیار زندگی بہتر کرنے کے لئے کام کررہا ہے۔ 80 ہزار سے زائد ورکرز دنیا بھر میں آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے مختلف اداروں سے منسلک ہیں۔ جن میں آغاخان فاونڈیشن، آغاخان ھیلتھ سرویسز، آغاخان پلانگ اینڈ بلڈنگ سرویسز، آغاخان اکنامک سروسز،آغاخان ایجنسی فار مائیکروفنانس اور فوکس ہیومینٹیرین قابل زکر ادارے ہیں جن کی براہ راست پرنس کریم آغاخان خود نگرانی کرتےہیں۔ 

1960 میں پرنس کریم آغاخان پہلی بار شمالی علاقہ جات تشریف لائے اور یہاں کے حالات اور معیار زندگی دیکھ کر مایوس و پریشان ہوئے۔ اور اے کے ڈی این کے تحت یہاں لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے کام شروع کیا۔ آج اگر کسی کو آغاخان کی معاشرتی ترقی میں کردار کو دیکھنا ہے تو وہ گلگت بلتستان، ہنزہ، چترال وغیرہ کو ہی دیکھ لے۔

دورہ پاکستان
حکومت پاکستان کی خصوصی دعوت پر پرنس کریم آغاخان 7 دسمبر 2017 کو پاکستان، اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ ان کی امامت کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے کی کڑی ہے۔ امامت کے 60 سال مکمل ہونے پرہزہائنس پرنس کریم آغاخان دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے میں پرنس کریم آغاخان حکومتی اہم شخصیات سے ملاقات کے علاوہ اپنی جماعت کو بھی دیدار کا شرف بخشیں گے۔ پرنس کریم صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، گلگت بلتستان کی اہم شخصیات، حکومت سندھ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ 

ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان چترال کی اپنی جماعت کو دو مقامات بونی اور گرم چشمہ میں دیدار کرانے کے ساتھ ساتھ مختصر فرمان (خطاب) فرمائیں گے۔ اس کے بعد گلگت بلتستان جائیں گے جہاں جماعت کو دیدار کرانے کے بعد واپس اسلام آباد آئیں گے۔ اسلام آباد میں سنٹرل ریجن کی جماعت سے ملاقات کے بعد کراچی تشریف لائیں گے اور کراچی کی اسماعیلی جماعت سے ملاقات کے علاوہ اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے۔ 

دورہ چترال اور اسماعیلیوں کی مثالی رضاکارانہ خدمات
پرنس کریم آغاخان 9 دسمبر کو چترال پہنچیں گے۔ جہاں اہم حکومتی اور جماعتی شخصیات ان کا استقبال کریں گی۔ چترال کے اس دورے اور دیدار گاہ کی تیاری کے لئے اسماعیلی جماعت نے جس جذبہ (والنٹیئرزم) رضا کارانہ خدمت کا اظہار کیا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسماعیلی رضاکاروں نے ایک وسیع رقبے پر محیط پتھریلی، سیلاب زدہ زمین کو ہموار میدان میں تبدیل کردیا۔ تمام علاقوں کی تباہ حال سڑکوں کی اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کی۔ لاسپور سے لیکر یارخون، بونی سے لیکر ریشن، ریچھ تورکہو، موڑکہو کے دور دراز علاقوں میں ایسا کام کیا جس کی مثال چترال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسماعیلی جماعت جسمانی محنت و مشقت کے ساتھ ساتھ مالی معاونت میں بھی مثال قائم کردیا۔ اسماعیلی کمیونیٹی میں والٹیئرزم قابل تمثیل ہے۔ جس کا اعتراف دیگر کمیونیٹیز بھی کررہے ہیں۔ 

اسماعیلی جماعت کی خوشی دیدنی ہے۔ اور جس گرم جوشی اور دل سے اسماعیلی جماعت والنٹیئرلی امام کی آمد کے لئے کام کررہی ہے اس سے ان کی اپنے امام زمان سے وابستگی اور گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ گلیوں، سڑکوں کی صفائی اور سجاوٹ دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جاتا ہے۔ چترال میں جہاں جہاں اسماعیلی جماعت رہتی ہے وہاں عید جیسا سماں ہے۔ اس کار خیر میں نہ صرف بونی اور قرب جوار کی جماعت نے حصہ لیا ہے بلکہ دور دراز یارخون، لاسپور، موڑکہو، تورکہو کی جماعتوں نے بھی بھر پور حصہ لیا ہے۔

اسماعیلی والنٹیئرز سرکاری اداروں کے کام بھی والنٹیئرلی خود کررہے ہیں جن میں اہم شاہراہوں کی صفائی و مرمت، عارضی پلوں کی تعمیر اورپرانے پلوں کی مرمت شامل ہے۔ مالی معاونت کے تحت دیدار گاہ (آوی لشٹ شوتار) کی تیاری اور دیگر جگہوں پر کام کرنے والے ہزاروں والنٹیئرز کو کھانا فراہم کیا جاتاہے۔ کھانے پینے کی ایشیا کے ساتھ ساتھ سردی سے بچنے کے لئے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔ روشنی کے انتظام کے لئے 3 بڑے جنریٹرز آوی لشٹ میں لگا دیئے گئے ہیں۔

دیدار کے لئے دور دراز علاقوں سے آنے والے روحانی بہن بھائیوں کے لئے بونی، جونالکوچ، آوی، پرواک، سنوغر، چرون اور کوراغ کے لوگوں نے رہائش اور طعام کا انتظام کر رکھا ہے جو کہ آپسی بھائی چارے اور اتفاق و اتحاد کی ایک بہترین مثال ہے۔ 

اسماعیلی کمیونیٹی کےساتھ ساتھ سنی جماعتی بھائی بھی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ دور دراز سے آنے والے مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے اپنے گھروں میں انتظامات کر رہے ہیں۔ اور دیدار گاہ کی تزئین و آرائش کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جوکہ مسلکی بنیاد پر تقسیم کے بجائے تکثیریت (پلورلزم) کی اعلیٰ مثال ہے۔ 

(جاری ہے) 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget