29 دسمبر، 2017

انصافی چترال کےلئے بجلی کا مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟ محکہ پیڈو، بجلی اور چترالی عوام - تحریر افسر خان

 


انصافی چترال کےلئے بجلی کا  مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟   محکہ پیڈو، بجلی  اور چترالی عوام - تحریر افسر خان

تحریر  افسر خان

آج یہ خبر بزنس ریکارڈر میں دیکھنے کو ملی۔ سوچا تھوڑا تبصرہ کرلوں اس پر:

تبدیلی کا نغرہ نہ صرف ایلکشن مہم میں بلکہ اس سے کئی سال پہلے ہمیں سنایا جارہا تھا۔ اور ہم عوام بھی اپنی روایتی سادگی کے ساتھ امید باندھے منتظر تھے کہ کب تحریک انصاف کی حکومت آئے اور ہمارے مسئلے جادوئی چھڑی سے ایسے غائب ہوجائیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں اور سارے غم بھول کر نئے پاکستان میں سکھ کی زندگی گزاریں۔ کرتے کرتے الیکشن بھی  ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے تحریک انصاف کو خیبر پختونخواہ میں عوامی آزمائش کے لئے ایک موقع دیا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کے پی کے میں کچھ شعبوں میں تبدیلی نہیں آئی یا بہتری نہیں ہوئی۔  بے شک ہوئی ہے۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور وہ تبدیلی جس کے لئے عوام نے آپ کو ایک صوبے کی ذمہ داری دی ہے، اسے مثالی بناکر آپ عوام  سے  صوبے کے بجائے ملک کی اقتدار کے لئے ووٹ مانگ سکتے ہیں۔ لیکن یہ کیا آپ تو ایک صوبہ تبدیل نہ کرسکے، ملک کیا تبدیل کریں گے۔ عوام آپ سے یہ سوال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اب آئیے خبر کی جانب، خبر میں لکھا ہے کہ ’’ تحریک انصاف کے رہنما چترال کے لئے بجلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘‘

میرا سوال ہے کہ پیڈو یعنی پختونخواہ انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کیا آپ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے؟

تھوڑی سی پیڈو کی ہسٹری پر نظر ڈالتے ہیں:  شیڈو، فیڈو اور پھر پیڈو : 

1986 میں شیڈو SHYDO   یعنی سمال ہائیڈل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن  کے نام سے یہ ادار قائم کیا گیا۔ جس کی ذمہ داریوں میں درجہ ذیل امور شامل تھے

1. صوبے کے تمام اضلاع میں 5 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی گنجائش  والی جگہوں اور منصوبوں کی نشاندہی اور ترقی
2. بجلی سے محروم علاقوں کے لئے چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر 
3. اور آف گرڈ سمال ہائیڈل اسٹیشنز کو مینٹین رکھنا اور انہیں چلانا 

1993 میں شیڈو کو  1993 ایکٹ کے تحت خودمختار  اداراہ بناکر اس کا نام سرحدہائیڈل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن رکھا گیا۔ اور 2013  میں   ایک بار پھر نام تبدیل کرکے ’پختونخواہ ہائیڈل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن‘(PHYDO) رکھ دیا گیا۔  2014 میں پختونخواہ انرجی ڈیولپمنٹ ایکٹ 2014 کے تحت نام تبدیل کرکے PEDO یعنی پختونخواہ انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن رکھ دیا گیا۔ پیڈو حکومت خیبر پختونخواہ کا ایک خودمختار ادارہ ہے جس کی ذمہ داری صوبے میں توانائی کی فراہمی اور ترقی ہے۔ پیڈو تمام قابل تجدید توانائی کے وسائل و ذرائع جیسے ہائیڈل، سولر، ونڈ انرجی سے بجلی پیدا کرنے اورممکنات کو ایکسپلور کرنے کا مجاز ہے۔

اب آئیے آپ کا تعارف ریشن بجلی گھر سے کراتے ہیں: 
ریشن بجلی گھر کیوں اور کس کی امداد سے بنایا گیا اس کی تفصیل ہم کو بعد میں دیں گے۔ یہاں ہم  ریشن بجلی گھر کی مختصر تاریخ سے آپ کو آگاہ کرتے ہیں۔  ریشن بجلی گھر کی پیداواری گنجائش 4.2 میگا واٹ ہے اور یہ سالانہ  25 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کرتا تھا۔  240 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنز اور 300 کلومیٹر طویل  ڈسٹری بیوشن لائنز  پر مشتمل تھا۔  اور اس بجلی گھر سے اپر چترال کے  تقریباً 20 چھوٹے بڑے دیہات کے  21 ہزار سے زائد  آبادی مستفید ہورہی تھی۔  گھریلوں صارفین کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے محنت کش اور کاروباری طبقے جیسے بڑھئی، دکاندار، لکڑی کے کارخانے چلانے والے، آئس کریم شاپس،  آٹو ورکشاپس وغیرہ  چلتے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے جون اور جولائی
2015 میں قدرتی آفت کی وجہ سے مذکورہ بجلی گھر جزوی طور پر تباہ ہوا۔ سیلاب نے بجلی گھر کے اہم حصے کو نقصان پہنچایا۔ سیلابی پانی پیڈو اور  ریشن بجلی گھر کے آر ۔ای کی غفلت کی وجہ سے  بجلی گھر میں داخل ہوا ا ور بجلی گھر کی مشینوں سمیت دفاتر اور رہائشی کالونیوں کو نقصان پہنچایا۔  انتظامیہ کی غفلیت یہ تھی کہ مقامی اکابرین اور رہنماؤں کی بار ہا  نشاندی کے باجود  انہوں نے بجلی گھر کے سامنے سے گزرنے والے دریائے ریشن کے نالے کی صفائی نہیں کی اور نہ ہی  بجلی گھر کی حفاظت کے لئے بند باندھا۔ اس غفلت کے نتیجے میں بجلی گھر  کو نقصان ہوا اور 21 ہزار سے زائد گھرانے اندھیرے میں چلے گئے۔ 

بجلی گھر کو چونکہ جزوی نقصان پہنچا تھا ، لیکن کرپشن  مافیا اس کی مرمت کی لاگت کا تخمینہ اصل سے  کہیں زیادہ بتا رہی تھی۔   بجلی گھر شیڈو، فیڈو، پیڈو کے زیر انتظام چل رہا تھا۔  پاور ہاؤس کی ڈسٹری بیوشن لائن  درست حالت میں ہے۔    3 سال گزرنے کے باوجود محکہ یعنی پیڈو  اپنے تیار  بجلی گھر کو بحال نہ کرسکا اور نہ ہی صوبائی حکومت اس جانب دلچسپی دکھائی۔  صارفین نے بار ہا اختجاجی جلسہ کیا لیکن ان کو وعدوں کے سوا کچھ نہ ملا۔  

اب آئیے خبر کی جانب، خبر میں لکھا ہے کہ’’ تحریک انصاف کے رہنما چترال کے لئے بجلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘‘
میں یہاں سوال اپنے تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کے سامنے رکھتا ہوں  کہ  آپ اپنی حکومت کو کیوں نہیں کہتے کہ ریشن بجلی گھر بحال کرو۔ اور چترال کے اندر جس طرح واپڈا وسائل سے فائدہ اٹھا رہا ہے پیڈو اور صوبائی حکومت کیوں نہیں اٹھا رہی؟ ۔  اگر  ریشن بجلی گھر کو بحال کرنے میں کوئی بڑی رکاوٹ ہے وہ کھل کر عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھتے؟  ۔وپڈا کے   گولین گول بجلی گھر  سے بجلی خرید کر متاثرین کو بجلی کیوں نہیں دیتے؟

اگر آپ کے پاس وسائل کی کمی ہے  تو کیا یہ صرف چترال کے لئے ہے؟    کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ خوفزدہ ہیں کہ  اس کا کریڈٹ پی پی کا ایم پی سردارحسین لے لیں گے یا     آل پاکستان مسلم لیگ کا ایم این اے شہزادہ افتحار لے لیں گے۔  ؟؟؟  


بحالی ریشن بجلی کے سلسلے میں منعقدہ احتجاجی جلسہ 







کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں