دسمبر 24, 2017

اٹھائیس دسمبر کے اسٹیڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ پیڈو کی شرکت مشکوک، اپر چترال کو بجلی ملنے کے امکانات ختم

 

چترال (ٹائمزآف چترال: خصوصی رپورٹ:کریم اللہ) گولین گول بجلی گھر سے چترال بالخصوص اپر چترال کو بجلی دینے اور پراجیکٹ کے افتتاح کے حوالہ سے لائحہ عمل تیار کرنے کے حوالے سے 28دسمبر 2017ء کو چترال میں اسٹیڈنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے ۔ میڈیا میں آنے والی خبر وں اور ایم این اے چترال جناب افتخار الدین کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اسٹیڈنگ کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں پیڈو اور پیسکو کے درمیان اپر چترال کو بجلی دینے کے حوالے سے معاہدے کے امکانات ہے ۔ تاہم اب انتہائی باخبر ذرائع سے موصول ہونے کی معلومات  کے مطابق اسٹیڈنگ کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں محکمہ پیڈو کی شرکت کا کوئی امکان نہیں۔  محکمہ پیڈو کے اعلی حکام سے رابطہ کرنے پر اس بات کی تصدیق کی کہ پیڈو کا کوئی بھی اہلکار اس اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے ۔

اس سلسلے میں جب صوبائی حکومت کے اعلی حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ۔  اسٹیڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیڈو کی عدم شرکت کے حوالے سے استفسار کرنے پر صوبائی حکومت کے ایک اعلی عہدے دار نے بتایا کہ چونکہ سوشل میڈیا میں گزشتہ کئی مہینوں سے ایم این اے چترال افتخارالدین کی جانب سے مسلسل کمپین جاری ہے اور بجلی کے حوالے سے سارا کریڈٹ وہ لینے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اپر چترال میں موجود اربوں روپے کے ٹرانزمیشن لائین صوبائی حکومت کے ادارہ برائے انرجی یعنی پیڈو کی ملکیت ہے ۔ لیکن  ایم این اے چترال افتخارالدین اپر چترال کو بجلی دینے کے حوالے سے صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی ضلعی قیادت کو بھی اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ چترال شہزادہ افتخارالدین اور پی ٹی آئی کی سیاسی چپقلش کی وجہ سے روز بروز پسماندگی کی جانب گامزن ہے ۔ اورایم این اے چترال علاقہ کو بجلی دینے کے حوالے سے سارا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایسی صورت میں اگر اپر چترال کو بجلی ملے تو کریڈٹ ایم این اے لینے کی کوشش کریں گے اور اگر اپر چترال کو بجلی دینےکے حوالے سے پیڈو اور پیسکو کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوتا اور اپر چترال کو بجلی سے محروم رکھا گیا  تو اگلے عام انتخابات میں ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین اس ایشو کو لے کر پاکستان تحریک انصاف  کے خلاف مہم چلائیں گے اور ممکن ہے کہ اس سے پی ٹی آئی کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں