دسمبر 4, 2017

چترال، کوغذی واپڈا کالونی کے سامنے متاثرین گولین اور کوغذی کا واپڈا اور ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چترال (ٹائمز آف چترال: رپورٹ ایم فاروق)  آج کوغزی میں واپڈا کالونی کے سامنے گولین اور کوغزی کے متاثرہ عوام کی جانب سے محکمہ واپڈا اور ایم۔این۔اے چترال شہزادہ افتخار کے خلاف سراپا احتجاج کیا۔



اس جلسے میں مقامی لوگوں کے علاوہ علاقے کے سیاسی عمائدین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ محکمہ واپڈا گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اپنے اختتامی مراحل کو پہنچ گیا ہے لیکن گولین اور کوغزی کے متاثرین کے ساتھ کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہ ہوسکے اور عوام شدید مشکلات سے دو چار ہیں ۔ اسی سلسلے میں جنالی کوغزی میں گولین گول پاور ایکشن کمیٹی کی سربراہی میں ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا ۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گولین ویلج کونسل کے چیئرمین مفتی نے واپڈا حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ واپڈا نے گولین کے متاثرین کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہے ، اس پراجیکٹ کی وجہ سے مقامی آبادی کےلئے بچھائے گئے پانی کے سکیم بُری طرح متاثر ہوگئے اور سیاسی نمائندگان بھی مثاثرین کو ہر لحاظ سے محروم رکھا ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کوغزی کے جنرل کونسلر اعجاز احمد نے کہا کہ گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مقامی لوگوں کی جانی و مالی قربانیوں سے مکمل ہوگیا ہے لیکن متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پراجیکٹ کے شروع میں مشکیلی لوکل کمیونٹی کے پن بجلی گھر کو متاثر کیا گیا اور غریب عوام اب بھی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 

اجلاس کے آخر میں ایکشن کمیٹی کے چیئرمین جناب شریف حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ واپڈا اور ایم۔این۔اے چترال شہزادہ افتخار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ سے علاقے کی ترقی ہوتی ہے لیکن گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی وجہ سے مقامی لوگوں کو ہر طرح کا نقصان پہنچایا گیا، کئ ایکڑ باغات تباہ ہوگئے اور زمینیات بنجر ہوگئے ، ٹرانسمیشن لائن والوں نے ہزاروں کی تعداد میں پھلدار و غیر پھلدار درختوں کو بلا معاوضہ بے دریغ کٹائی کی ، کام کے دوران  واٹر سکیموں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تمام ٹیکنیکل و غیر ٹیکنیکل ملازمتیں متاثرین کو دی جائیں گی لیکن یہ محض خواب ہی رہ گئے۔خیال رہے کہ واپڈا کی جانب سے متاثرین کے لئے مختص کی گئی 3 کروڑ رقم کو بھی سیاسی دباؤ کی وجہ سے ادا نہیں کی جارہی ہے حالانکہ یہ لوکل کمیونٹی کی ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص کی گئی ہے تاکہ واپڈا اور متاثرہ عوام میں اعتماد پیدا ہوسکیں لیکن ایم۔این۔اے چترال اس فنڈ کو متاثرین کو دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ عوام نے کہا اگر واپڈا یہ فنڈ اور وعدے پورے نہ کئے تو عوام مجبوراً احتجاجی مظاہرہ کرینگے اور گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے افتتاح میں رکاوٹ کا سبب بنیں گے۔







کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget