دسمبر 7, 2017

ٹرمپ مسلم دشمنی سے باز نہ آیا، بیت القدس کو اسرائیلی دارلخلافہ تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ بھی یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کردیا

 

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  نے وہ کیا جس کا خدشہ تھا۔  مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا نیا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ امریکی صدر کے اس اعلان کے خلاف عالمی سطح پر شدید رد عمل بھی سامنے آ رہاہے جبکہ ترکی میں عوام نے امریکی سفارتخانے کے سامنے اکھٹا ہو کر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ ترکی کے علاوہ جورڈن، غازا، ویسٹ بینک میں امریکی فیصلے کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔   پاکستان، سعودی عرب، فلسطین، اردن، مراکش، ترکی، مصر اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خارجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی تھی جبکہ واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے بیت المقدس کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے اسے عبور نہ کرنے کا پیغام دیا تھا جبکہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

عالمی رہنماؤوں نے بھی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ کوفی عنان نے کہا ہے مجھے امریکی صدر کےآج کے فیصلے پر بہت افسوس ہےکہ جس نے یروشلم پر عالمی اتفاق رائے کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ مجھے امید ہے کہ فلسطینی اور عرب طاقتیں بھر پور مزاحمت کا مظاہرہ کریں گے۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں موجود امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں ، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہوریتوں کا دل ہے اور یہاں پر اسرائیلی پارلیمنٹ موجود ہے ۔  یروشلم میں تمام مذاہب کے لوگ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا کو نفرت کی نہیں برد باری کی ضرورت ہے، تمام مذاہب کے اقوام کو باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا ۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا  کچھ امریکی صدور نےکہا کہ ان میں سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنےکی ہمت نہیں لیکن مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اورمیں یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا نقطہ آغاز ہے اور یہ تبدیلی امریکا کے مفاد میں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے تاریخی فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ اسرائیل اور اسرائیلی عوام ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget