دسمبر 5, 2017

اپر چترال میں ٹیلی نار تھری جی سروس کا آغاز کیا جائے ۔ عوام کا مطالبہ

 

چترال (ٹائمز آف چترال ۔ رپورٹ کریم اللہ) اپر چترال کا کل رقبہ ساڑھے آٹھ ہزار مربع کلومیٹر پر ہے ، علاقے کے لوگ گزشتہ ڈھائی برسوں سے جہاں بجلی جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہے وہیں دفتری امور چلانے کے لئے کے ہیڈکوارٹر بونی اور مستوج سمیت کسی بھی جگہ انٹرنیٹ کابہتر نظام موجود نہیں ۔ بونی کی حد تک پی ٹی سی ایل نے ڈی ایس ایل کے ذریعے صارفین کو انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا تو دعوی کیا ہے لیکن ڈی ایس ایل اکثر اوقات ڈاؤن رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے دفتری امور سمیت برقی شعبوں میں انجام پانے والے اکثر کام یا تو سرے سے ہوتے ہی نہیں یا تعطل کا شکار رہتے ہیں ۔ اکثر اوقات اسٹوڈنٹس کے داخلوں، ملازمتوں کے اپلائی کرنے سمیت متعدد کام نہیں ہوپاتے یوں نوجوانوں کے ہاتھوں سے مواقع نکل جاتے ہیں ۔مختلف دفتری امور اور بینکوں میں کام نہیں ہوتے ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نیٹ سسٹم کے نہ ہونے کی وجہ سے اکثر کام ٹھپ ہو کر رہ جاتے ہیں ۔اس حوالے سے علاقے کے لوگوں کا ایک اصولی مطالبہ یہ ہے کہ اپر چترال کے کونہ کونہ میں ٹیلی نار کے سروس موجود ہے ان میں تھری جی سسٹم انسٹال کرکے پورے علاقے کو تھری جی کی سہولت دی جائے تاکہ لوگ گھروں میں بیٹھ کر کام نمٹاسکے اس سے جہاں لوگوں کو انفارمیشن تک رسائی میں مدد ملے گی وہیں گھر بیٹھے کام نمٹانے سے پیسے کا خرچہ بھی کم رہے گا اور بالخصوص طالب علموں کو داخلوں اور ملازمتوں کے لئے اپلائی کرنے میں مدد ملے گی ۔
عوام اپر چترال ایم این اے چترل افتخارالدین سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف اپر چترال بلکہ لوئر چترال کے کونے کونے میں تھری جی سروس شروع کروا کر لوگوں کے لئے مزید آسانیاں پیدا کرنے میں کردار اداکریں ۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget